اونٹوں پر بارات جہلم کے علاقہ ڈومیلی کے دیہی علاقوں میں جدید دور کے باوجود صدیوں پرانی ثقافتی روایت آج بھی زندہ ہے
جہلم ( اقبال خان)جہلم کے علاقہ ڈومیلی کے دیہی علاقوں میں جدید دور کے باوجود صدیوں پرانی ثقافتی روایت آج بھی زندہ ہے، جہاں شادی کے موقع پر بارات مہنگی گاڑیوں کے بجائے سجے سجائے اونٹوں پر لے جانے کا منفرد رواج برقرار ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک بارات اونٹوں پر سوار ہو کر دلہن کے گھر روانہ ہوئی تو یہ منظر دیکھنے کے لیے اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔
جدید دور میں شادی بیاہ کی تقریبات میں جہاں قیمتی گاڑیوں، بینڈ باجوں اور جدید انداز نے اپنی جگہ بنا لی ہے، وہیں جہلم کے علاقہ ڈومیلی کے دیہی علاقوں میں آج بھی ماضی کی خوبصورت روایات کو زندہ رکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز ڈومیلی میں ایک بارات روایتی انداز میں اونٹوں پر سوار ہو کر دلہن کے گھر روانہ ہوئی۔ رنگ برنگے کپڑوں اور خوبصورت پوم سے سجے اونٹوں پر دولہا اور باراتیوں کی سواری نے منظر کو مزید دلکش بنا دیا۔
بارات کو اونٹوں پر جاتے دیکھ کر اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد سڑکوں اور راستوں کے اطراف جمع ہوگئی، جبکہ نوجوانوں اور بچوں نے بھی اس منفرد روایت کو خاص دلچسپی سے دیکھا۔
مقامی بزرگوں کے مطابق اونٹوں پر بارات لے جانا ان کے آباؤ اجداد کی قدیم ثقافت کا حصہ ہے، جو آج بھی نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ روایت صرف سادگی کی علامت نہیں بلکہ علاقائی ثقافت، روایات اور ماضی سے جڑے رشتے کو برقرار رکھنے کا خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔
یوں جدید دور کی تیز رفتار زندگی میں ڈومیلی کے دیہی علاقوں میں اونٹوں پر بارات لے جانے کی یہ روایت آج بھی ماضی کی خوبصورت یادوں کو زندہ کیے ہوئے ہے۔