ضلع جہلم پڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کرایہ جات میں کمی پر عمل درآمد نہ ہو سکا
کرایہ جات میں کمی انتظامیہ کی کاغذی کاروائی تک محدود

جہلم( پروفیسر خورشید علی ڈار)ضلع جہلم نہ صرف پسماندہ ہے بلکہ ایک سال سے تمام بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے ایک شہری جس کو روزانہ اپنے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انتظامیہ کی اس طرف توجہ نہیں ہے روزانہ کی بنیادوں پر میٹنگ پر میٹنگ ہو رہی ہے قربان جاؤں ار ٹی اے جہلم کی کارگزاری پر انہوں نے بڑی ہمت کر کے کرایہ میں پانچ فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے جس پر عمل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا کیا ار ٹی اے جہلم کو معلوم ہے کہ دینہ تا جہلم کا کتنا فاصلہ ہے ویگن والے 100 روپیہ کرایہ وصول کرتے ہیں حالانکہ کرایہ زیادہ سے زیادہ 60 روپے ہو سکتا ہے راولپنڈی میٹرو بس چالیس کلومیٹر کا کرایا 30 روپے لیتی ہے اور منافع میں جا رہی ہے ٹرانسپورٹرز ار ٹی اے جہلم کو خوش کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں انتظامیہ حکومت پنجاب کو خوش کرنے کے لیے جرمانہ کرتی ہے مگر سبزی فروش پھل فروش دودھ فروش اور ہر قسم کا کاروبار کرنے والے اپنی مرضی کرنے میں مصروف ہیں سسٹم کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ضلع جہلم میں متعدد ایسی جگہ ہیں جہاں پر ضلعی انتظامیہ نے تاحال سرکاری ریٹ زمین کا مقرر نہیں کیا اس حکومت کو نقصان ہو رہا ہے ضلع جہلم اس حوالے سے بھی بڑا مقام رکھتا ہے یہاں پر بس اڈہ فیس دیگر ضلعوں کی نسبت بہت زیادہ ہے ڈی سی رملہ کا قبرستانوں پر ہونے والے تجاوزات پر ایکشن لینا قابل تعریف ہے کاش زندہ انسانوں کے لیے بھی کوہی قدم اٹھا سکتی گھر سے لے کر شہر تک اور شہر سے لے کر گھر تک ہر طرف تجاوزات ہیں جس سے ہر شہری پریشان ہے اختیارات عارضی چیز ہے حتمی اختیارات کا مالک رب عظیم ہے ہر افیسر نے اس کے سامنے جواب دینا ہے