حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رح اور مخدوم عبد الرشید حقانی رح کے’ ملک کے طول۔و عرض سے آےء خانوادوں کے زیر اھتمام ‘ تنظیم سادات بنی ھاشم پاکستان ‘ کا اجلاس

جہلم ( سید توقیر آصف شاہ )علمی اور اخلاقی زبوں حالی کے اس دور میں خانقاہی تربیت اور تصوف کا احیاء ضروری ہے۔ تاکہ معاشرتی اصلاح اور قومی یگانگت کو فروغ دیا جا سکے ۔ ڈاکٹر واجد پیر زادہ
تفصیلات کے مطابق حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رح اور مخدوم عبد الرشید حقانی رح کے’ ملک کے طول۔و عرض سے آےء خانوادوں کے زیر اھتمام ‘ تنظیم سادات بنی ھاشم پاکستان ‘ کا اجلاس ان خانوادوں کے ملتان کے بعد سب سے بڑ ے مرکز پیل پیراں ضلع خوشاب میں ھوا۔ اجلاس پیل پیراں کے علاؤہ ملتان ‘ مخدوم رشید’ آستانہ سلطان ایوب قتال رح’ دنیا پور ‘ میلسی ‘ بھیرہ شریف’ پیر دا کھارا ‘کرولی پیران’ سرکال مایرء ‘ کلس شریف ‘ پیر بھچر’ پوڑ میانہ حسن ابدال’ مالمولہ ایبٹ آباد: ٹوبہ ٹیک سنگھ اور دیگر آستانوں کے علاؤہ بیرون ملک سکاٹ لینڈ سے وفود نے شرکت فرمائی ۔ اجلاس کے موقع پر تہنیتی پیغامات کے سلسلے میں تنظیم کے سرپرست اعلیٰ جناب مخدوم محمد جاوید ھاشمی ‘ ایمبیسیڈر جناب پیر امیر علی شاہ صاحب ‘تنظیم۔کے سرپرست جناب طارق محمود پیرزادہ اور لندن سے تنظیم کے یورپ کے کوآرڈینیٹر جناب خورشید احمد ھاشمی صاحب اور دیگر زعماء خاندان نے تنظیم سادات بنی ھاشم کے قیام اور اسکے اصلاحی اور رفاہی پروگرام ‘ تسبیح ‘ کے اجراء پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور اس ضمن میں تنظیم سادات بنی ھاشم پاکستان کے امیر جناب ڈاکٹر واجد پیرزادہ صاحب کی خدمات اور عزم کو خراج پیش کیا۔۔اجلاس سے امیر تنظیم کے علاؤہ تنظیم کے نائب امیر مخدوم ڈاکٹر شاھد بہار ھاشمی صاحب ‘ مخدوم شاھد بہار ھاشمی صاحب ‘ مخدوم ڈاکٹر عصمت اللہ شاہ صاحب: تنظیم کے سیکریٹری جنرل جناب پیر فہیم اعظم صاحب ‘ چیف کوآرڈینیٹر جناب لیاقت ھاشمی صاحب ‘ ممبر فنانس جناب زین ھاشمی’ تنظیم کے سیکریٹری اطلاعات جناب مخدوم سلیم قریشی صاحب’ مخدوم ڈاکٹر ذاکر حسین .اور اجلاس کے منتظمین پیر الحاج یونس شاہ’ پیر عبد القیوم شاہ اور دیگر نے خظاب فرمایا۔ اجلاس سے خطاب فرماتے ھوےء تنظیم سادات بنی ھاشم پاکستان کے امیر جناب ڈاکٹر واجد پیرزادہ صاحب نے کہا کہ آج دونوں خانوادوں کے ملک کے طول وعرض سے آےء زعماء اپنے خاندان کی علمی اور روحانی وراثت کے احیاء ‘ امامت ‘ سیادت اور تربیت کی ذمہ داریاں کا احساس کرتے ھوےء ایک نیےء عزم صمیم کے ساتھ اکٹھے ھوے ء ھیں تاکہ اس علمی اور اخلاقی زبوں حالی کے دور میں خانقاھی تربیت اور تصوف کے احیاء معاشرتی اصلاح اور قومی یگانگت کو فروغ دیا جا سکے ۔ انہوں ملک کے طول و عرض سے آےء زعماء اور وفود کا شکریہ ادا کیا۔