غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے منڈی بہاءالدین گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج میں طلباء کے ساتھ ڈائیلاگ سیشن

منڈی بہاءالدین (بیورو چیف )غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے منڈی بہاءالدین گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج میں طلباء کے ساتھ ڈائیلاگ سیشن ۔پارلیمنٹریز۔سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے طلبہ کے سوالات ۔انکے جوابات ۔طلبہ نے ایسے پروگرامز باربار کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
برطانوی ہائی کمیشن کے اشتراک سے سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج منڈی بہاءالدین میں غیر قانونی انسانی سمگلنگ کے روک تھام کے موضوع پر یوتھ ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پارلیمنٹرینز اور طلباء نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس تقریب کا مقصد نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کے سماجی و اقتصادی اثرات اور اس کے حل کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
یوتھ ڈائیلاگ کی تقریب میں چوہدری ذوالقرنین چیرمین یونین کونسل چیلیانوالہ ۔امجد علی بٹ سیاسی وسماجی چوہدری اورنگزیب وڑائچ شخصیت ،اساتذہ ، طلبہ سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ذوالقرنین یو سی چیرمین کاکہنا تھا کہ ہجرت کرنا ہر انسان کابنیادی حق ہے تاہم غیر قانونی ہجرت ایک سنگین اقدام ہے جس کے نتائج بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں جو لوگ ہجرت کر کے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ قانونی طریقہ کار کو اپنائیں اور کسی کام میں مہارت حاصل کریں تاکہ بیرون ملک انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
امجد علی بٹ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھے پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک کی بجائے اپنے ملک میں کاروبار کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ شکنی کے لئے ایس ایس ڈی کا یہ اقدام قابل ستائش ہے نوجوان نسل ہمارے ملک کے روشن مستقبل کا حصہ ہے اس لیے میرا نوجوان نسل سے یہی پیغام ہے کہ غیر قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہجرت ایک بہت بڑا رسک ہے جس میں جان و مال کو داؤ پر لگا کر بہت سے پاکستانی نوجوان اپنی جانیں تک گنوا چکے ہیں اس لئے غیر قانونی ہجرت کی بجائے قانونی طریقےسے ہجرت کریں ۔یوتھ ڈائیلاگ میں شرکاء نے غیر قانونی ہجرت کے اثرات پر کھل کر بات کی اور اس کے حل کے مختلف طریقوں پر گفتگو کی۔ تقریب کے دوران نوجوانوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں اس موضوع پر مزید آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ شرکاء نے یہ بھی تجویز کیا کہ حکومت کو نوجوانوں کے لیے تعلیمی و فنی تربیت کے پروگرامز بڑھانے چاہئیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور بے قاعدہ ہجرت کی طرف راغب نہ ہوں۔
اس کے علاوہ اس ڈائیلاگ میں طلباء نے ہجرت کی وجوہات اور اس کے حل کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان اس اہم مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس کے حل کے لیے سرگرم ہیں۔