انس الشریف الجزیرہ کا وہ صحافی،جو برستے بارود اور بھوک کی دلدل میں سسکتی انسانیت اور دم توڑتی زندگی کی خبر دیتا رہا,اسرائیل کی بربریت کا شکار ہو گیا

انس الشریف الجزیرہ کا وہ صحافی،جو برستے بارود اور بھوک کی دلدل میں سسکتی انسانیت اور دم توڑتی زندگی کی خبر دیتا رہا۔ اس کی ایک ویڈیو دیکھی، جس میں وہ اپنی معصوم سی بچی کیساتھ مسکرا رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا ہم غزہ سے نہیں جائیں گے، وہ کہتے ہیں،غزہ سے ہم صرف جنت میں منتقل ہوں گے۔ انس الشریف تو جنت منتقل ہوگیا، ان شااللہ ۔ اس کے ساتھ پانچ صحافی بھی۔ اب تک کل 200 سے زیادہ صحافی اسرائیل قتل کر چکا ہے۔ انس الشریف کو اس وقت تاک کر نشانہ بنایا گیا ،جب وہ الشفا ہسپتال کے پاس صحافیوں کیلئے لگے ایک خیمے میں موجود تھا۔ اسرائیل نے اس پر غزہ کی عسکری تنظیم سے تعلق کا الزام لگایا۔ عالمی طور پر جسے ایسا الزام کہا گیا،اسرائیل جس کے واضح ثبوت نہیں دے سکا۔ اسرائیل کو ثبوتوں کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے ہاتھ میں گن ہے اور اس کا کہا ، خود سچائی۔ ہر وہ شخص جو اسرائیل کے ظلم کو دنیا کے سامنے لاتا ہے، ظاہر ہے، اس کے نزدیک وہ خطرناک ہے۔ دراصل اسرائیل کے نزدیک ساری دنیا خطرناک ہے۔ جو اس کے ظلم کو ظلم کہتی اورسمجھتی ہے۔
بہرحال پاکستانی صحافت کو دیکھنا چاہئے کہ صحافت اصل میں ہوتی کیا ہے؟ دن میں تین بار طاقت وروں کی حمد وثناء کرنا اور ان کی مرضی کو خبر بنا کے پیش کرنا اور ان کے آئندہ منصوبوں کیلئے راہ تراشنے کو دلائل فراہم کرنا اور اسے تجزیہ قرار دینا یا دنیا کے سب سے بڑے ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اور اس کی گن کے سامنے کیمرہ تان کے اپنوں کیلئے ڈٹے رہنا۔ زندگی ایک جتنی اور ایک جیسی ہے مگر اس کا انجام اور کا انعام ایک جیسا نہیں۔ بھوک اور بارود غزہ پر ہی مسلط نہیں یہ ہمارے ہاں بھی مسلط کر دی گئی ہے اور ہماری صحافت روزی روٹی کیلئے اپنا کیمرہ اور قلم اور لفظ اور لیاقت اس کے عوض گروی رکھ چکی ہے۔ اب کہیں سے کوئی خبر نہیں ملتی، فلاں نے یہ کہا اور فلاں نے وہ کہا بھی کوئی صحافت ہوتی ہے؟ وہ یہ چاہتے ہیں اور وہ فلاں کو لانے اور فلاں کو لے جانے لگے ہیں ،بھی کوئی صحافت ہوتی ہے؟ صحافت وہ ہوتی ہے جو انس الشریف نے کی،وہ جب تک جیا بھوک سے اور ظالموں سے برابر لڑا اور ایک شہید کا انعام پاکے رخصت ہوا۔ وہ شہید صحافت ہے، ہم تو اسے خراج تحسین پیش کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس کا نام تک لینا ہمیں گوارا نہیں کہ کہیں اس کو بھی ہماری جرات سمجھ کے کوئی طاقت ور ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ اللہ اس شہید کو جنت میں بہت آسودہ کرے،وہ تنہا جان اس امت کی طرف سے کیمرہ اٹھا کے ظالموں سے بہت لڑا۔ وہ ہماری بے ہمتی اور بے حمیتی کا کفارہ اور استثنا تھا۔ ایسے لوگ قوموں میں کم ہوتے ہیں۔ نادر اور نایاب۔خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را
#یوسف_سراج