انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج: اکیڈمی سیل، گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات

0

 

جہلم کے تھانہ سٹی میں معروف مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف شہری کی درخواست پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ دفعہ 295 سی کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی پیغمبرِ اسلام اور مذہبِ اسلام کی توہین پر لگائی جاتی ہے جس کی سزا پاکستان کے قانون کے مطابق سزائے موت ہے۔

انتظامیہ نے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے محمد علی کی اکیڈمی کو سیل کر دیا ہے اور اکیڈمی اور ان کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

خیال رہے گذشتہ روز انجینیئر محمد علی کو حراست میں لیا گیا تھا اور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر انھیں تھری ایم پی او کے تحت جیل میں نظربند کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کی حفاظتی حراست کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے جنھیں عوامی تحفظ یا نظم کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے تاہم یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.