ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سعید احمد کی قیادت میں سالانہ کارکردگی کا جائزہ اجلاس کا انعقاد

ریسکیو 1122 جہلم کنٹرول روم کو مجموعی طور پر122595 فون کالز موصول ہوئیں جن میں سے 29886ایمرجنسی کی کالز تھیں

0

جہلم ۔( اقبال خان ) ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سعید احمد کی قیادت میں سالانہ کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں کنٹرول روم انچارج صابر حسین، سینئر اکاؤنٹنٹ محمد شیراز اور تمام تحصیلوں کے اسٹیشن کوآرڈینیٹرز اور دیگر سینئر آفیشلز نے شرکت کی۔
سال 2025 میں جہلم کے ریسکیورز نے اپنے بلند حوصلے اوربہترین پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ریسکیو1122 جہلم نے بروقت رسپانس کرتے ہوئے سال 2025 میں اوسط ایمرجنسی رسپانس ٹائم 8.4منٹ رہا ۔
تفصیل کے مطابق ریسکیو 1122 جہلم کنٹرول روم کو مجموعی طور پر122595 فون کالز موصول ہوئیں جن میں سے 29886ایمرجنسی کی کالز تھیں۔ ان میں 4397روڈ ٹریفک ایکسیڈینٹ، 20746میڈیکل ایمرجنسی،392فائرایمرجنسی، 357کرائم کیس،25 ڈوبنے کے واقعات، 14 عمارتیں گرنے کے واقعات اور 3955متفرق ایمرجنسیز تھیں۔
علاوہ ازیں پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے تحت بہتر طبی سہولیات کے لئے تحصیل ہیڈ کوارٹرز اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں سے1076 مریضوں کو راولپنڈی، اسلام آباد اور سرگودھا کے بڑے ہسپتالوں میں شفٹ کیاگیا۔ اس موقعہ پر انچارج ریسکیو1122 جہلم انجینئر سعید احمد کا کہنا تھا کہ ریسکیو1122کے جوان کسی بھی ایمرجنسی یا سانحہ سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ریسکیو1122 کا ادارہ عوام کا ادارہ ہے اور ہم عوام کی فلاح کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد عوام الناس کو بر وقت بہترین ریسکیو سروس مہیا کرنا ہے۔ لہذا ہم عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس نمبرپر غیر ضروری کالز سے اجتناب کریں۔کیونکہ ایسا کرنے سے کسی مستحق شخص جس کو سروس کی اشد ضرورت ہو،اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کمیونٹی سیفٹی ونگ ریسکیو 1122 جہلم کی جانب سے بلند عمارتوں کا سروے بھی کیا گیا، اور مالکان کو عمارات کی سیفٹی کے قوانین پر عملدرآمد کرنے کے لیے ضروری ہدایات دی گئیں تاکہ بلند عمارتوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔علاوہ ازیں محفوظ معاشرہ کے قیام کے لئے مختلف اداروں،سکولز، کالجز،اور یونین کونسلز کی سطح فرسٹ ایڈ اور کیڈرے کی تربیت دی گئی۔جن میں شہریوں کو حادثات سے آگاہی، ابتدائی طبی امداد اور دیگر میڈیکل حادثات سے متعلق تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ غیر معمولی صورتحال، قدرتی آفات اور دیگر حادثات سے متعلق فرضی مشقوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.