
پاکستان کا تعلیمی نظام: ایک تقسیم شدہ حقیقت
:- یاسر فہمید
پاکستان میں تعلیم کا شعبہ آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی اصل روح پس منظر میں جا چکی ہے اور کاروباری پہلو نمایاں ہو چکا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں نے باقاعدہ ایک منڈی کی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں ہر سکول کا اپنا نصاب، اپنی فیس، الگ یونیفارم، مخصوص کاپیاں، حتیٰ کہ جداگانہ سکول بیگ تک متعارف کروایا جا چکا ہے۔ اس تمام صورتحال نے تعلیم کو ایک منافع بخش صنعت میں تبدیل کر دیا ہے۔
نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے معیار کا تضاد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک طرف کم تعلیم یافتہ افراد تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں تو دوسری جانب اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ بھی موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر معیار یکساں نہیں۔ یہ عدم توازن تعلیمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
یکساں نصاب: ایک بنیادی سوال
ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ آٹھویں جماعت تک بچے مختلف نصاب، مختلف زبانوں اور مختلف تدریسی طریقوں کے تحت تعلیم حاصل کرتے ہیں، مگر میٹرک کے امتحانات ایک ہی سرکاری نصاب کے تحت دیے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: اگر امتحان ایک نصاب کے تحت ہونا ہے تو پورے ملک میں یکساں نصاب کیوں نافذ نہیں کیا جاتا؟
گزشتہ دہائیوں میں یکساں نصاب کے نفاذ کی کوششیں ضرور ہوئیں، مگر سیاسی عدم تسلسل اور مفادات کے ٹکراؤ کے باعث یہ خواب حقیقت نہ بن سکا۔
چار متوازی تعلیمی نظام
پاکستان میں بیک وقت چار مختلف تعلیمی نظام رائج ہیں، جو معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہے ہیں: آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دو نظام تعلیم تو اکثر سننے میں آیا ہے مگر یہ دو مزید کون سے نظام تعلیم ہیں
میں ان چاروں کا مختصر احاطہ کیے دیتا ہوں
1۔ *سرکاری تعلیمی نظام*
یہ نظام زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے تک محدود ہو چکا ہے۔ اگرچہ عمارات اور سہولیات میں بہتری آئی ہے، مگر نصاب اور تدریسی انداز جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود کردار سازی اس نظام کا مثبت پہلو ہے۔
2۔ *چھوٹے نجی سکولز*
یہ سکول ہر محلے میں موجود ہیں اور متوسط طبقے کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ ان کا نصاب غیر واضح اور معیار غیر مستقل ہوتا ہے، مگر مناسب فیس کے باعث یہ عوام میں مقبول ہیں۔
3۔ *برانڈڈ سکول سسٹمز*
یہ ادارے بہتر سہولیات اور معیاری ماحول فراہم کرتے ہیں، مگر یہاں بھی تعلیم سے زیادہ نمائش اور مقابلہ بازی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ امتحانی نتائج کو تشہیر کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
4۔ *ایلیٹ تعلیمی نظام*
یہ نظام اشرافیہ کے لیے مخصوص ہے جہاں عالمی معیار کی تعلیم، غیر ملکی اساتذہ اور جدید سہولیات دستیاب ہیں۔ تاہم یہ عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ان ادروں میں تعلیم حاصل کرنا عام آدمی کے لیے تقریبا نا ممکن ہے کیونکہ اس مہنگے ترین نظام میں صرف ایکیٹ کلاس سرمایہ دار اور اشرافیہ ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتے ہیں
*طبقاتی تقسیم: اصل مسئلہ*
تعلیم میں یہ واضح طبقاتی تقسیم دراصل ہماری سماجی ناہمواری کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی تقسیم یکساں نظام تعلیم کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی تعلیمی نظام رائج ہوتا ہے جہاں برتری کا معیار صرف قابلیت ہوتی ہے، نہ کہ دولت یا طبقہ۔
ذمہ داری کس کی؟
اس صورتحال کے ذمہ دار صرف حکمران یا پالیسی ساز ہی نہیں بلکہ ہم بطور معاشرہ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم خود اپنے بچوں کے لیے الگ اور بہتر نظام چاہتے ہیں، جس سے یہ تقسیم مزید مضبوط ہوتی ہے۔
انتخابی مہمات میں بھی ہماری ترجیحات تعلیم کے بجائے بنیادی سہولیات تک محدود رہتی ہیں۔ ہم سڑک، گلی اور بجلی کا مطالبہ تو کرتے ہیں مگر معیاری تعلیم کو اپنی اولین ترجیح نہیں بناتے۔
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی اجتماعی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نمائندوں سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ وہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں کیا پالیسیاں رکھتے ہیں۔ جب یہ سوال عوامی سطح پر اٹھے گا تو یقیناً حکمران بھی اس جانب توجہ دینے پر مجبور ہوں گے۔
تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مہذب اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے کی بنیاد ہے۔ جب تک پاکستان میں یکساں، معیاری اور منصفانہ تعلیمی نظام رائج نہیں ہوگا، تب تک ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔