ماہ رمضان المبارک اور ذخیرہ اندوزی میں انتظامیہ کا کردار تحریر: سید جواد حسین نقوی

0

ماہ رمضان المبارک اور ذخیرہ اندوزی میں انتظامیہ کا کردار

تحریر: سید جواد حسین نقوی

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور ایثار و ہمدردی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب معاشرے میں خیر خواہی، مساوات اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کا جذبہ اپنے عروج پر ہونا چاہیے۔ مگر افسوس کہ اسی بابرکت مہینے میں بعض عناصر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے ذریعے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ ایسے میں انتظامیہ، خصوصاً اسسٹنٹ کمشنر اور میونسپل کمیٹی کے ذمہ داران کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ جیسے شہروں میں رمضان کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوامی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ چینی، آٹا، گھی، دالیں اور سبزیاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہیں۔ یہاں اسسٹنٹ کمشنر دینہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مارکیٹ کی مسلسل نگرانی کریں، سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ک رمضان بازاروں کا قیام ، پرائس لسٹوں کی نمایاں آویزاں، اور اچانک چھاپے ایسے اقدامات ہیں جو وقتی ریلیف تو فراہم کرتے ہیں، مگر اصل ضرورت مستقل مزاجی اور شفافیت کی ہے۔ اگر کارروائیاں صرف رسمی ہوں یا چند دنوں تک محدود رہیں تو ذخیرہ اندوز دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ مربوط حکمت عملی اپنائے، سپلائی چین کی نگرانی کرے اور گوداموں کی جانچ پڑتال کو معمول بنائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انتظامیہ اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتی۔ تاجروں، دکانداروں اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ذخیرہ اندوزی صرف قانونی جرم نہیں بلکہ اخلاقی گراوٹ بھی ہے۔ رمضان ہمیں صبر، قناعت اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا درس دیتا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں مصنوعی قلت پیدا کر کے ناجائز منافع کماتا ہے، وہ دراصل معاشرتی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر دینہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ہیلپ لائنز فعال رکھیں، شکایات پر فوری ایکشن لیں اور کارروائیوں کو میڈیا کے ذریعے نمایاں کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ساتھ ہی تاجر برادری کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ قیمتوں میں استحکام پیدا ہو۔بطور معاشرہ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ رمضان المبارک کو منافع خوری کا نہیں بلکہ خدمت کا مہینہ بنائیں۔ اگر انتظامیہ دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور عوام بھی قانون کا ساتھ دیں تو ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ممکن ہے۔ رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ مشکلات میں اضافہ کریں۔اللہ کرے کہ اس رمضان میں ہمارے بازاروں میں انصاف ہو، قیمتوں میں اعتدال ہو اور ہر گھر میں سکون اور برکت نصیب ہو۔ آمین۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.