امام مسجد اور ہمارا معاشرہ یاسر فہمید

0

امام مسجد اور ہمارا معاشرہ

یاسر فہمید

شہر ہو، قصبہ ہو یا گاؤں، شاید ہی کوئی ایسا محلہ ہو جہاں مسجد موجود نہ ہو، اور کوئی ایسی مسجد ہو جہاں امام مسجد موجود نہ ہوں۔ یہی امام مسجد کبھی قاری ہوتے ہیں، کبھی حافظِ قرآن اور کبھی عالمِ دین۔ یہی ہمیں نماز پڑھاتے ہیں، ہمارے نکاح اور جنازے پڑھاتے ہیں، ہمارے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے ہیں اور ہمارے دینی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا طوفان، نماز کا وقت ہوتے ہی امام مسجد آپ کو مسجد میں موجود ملیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیاں دین کی خدمت میں گزر جاتی ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مساجد کے ان اماموں کی اکثریت کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہوتا۔ ان کے گھروں کے چولہے صرف مسجد کی تنخواہ پر جلتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ چولہے جلتے کم اور صرف رینگتے زیادہ ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک عام امام مسجد کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے۔ آج ایک دیہاڑی دار مزدور بھی کئی جگہوں پر اس سے زیادہ معاوضہ حاصل کر رہا ہے۔ دوسری طرف ہم عالی شان مساجد تعمیر کرتے ہیں، ان کی خوبصورتی پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ مہنگی ٹائلیں، نرم قالین، جدید لائٹس، ایئر کنڈیشنرز، وضو کے لیے گیزر اور ہر ممکن سہولت مسجد میں موجود ہوتی ہے، مگر جب امام مسجد کی تنخواہ بڑھانے کی بات آئے تو اکثر کہا جاتا ہے کہ فنڈز کم ہیں۔

میں نے ایسی مساجد بھی دیکھی ہیں جن کے ماہانہ فنڈز لاکھوں میں ہوتے ہیں اور کمیٹیاں یہ سوچتی رہتی ہیں کہ مسجد میں اب کون سی نئی چیز لگوائی جائے تاکہ خوبصورتی مزید بڑھ جائے۔ مگر انہی مساجد کے امام کی تنخواہ اکثر تیس سے پینتیس ہزار روپے سے آگے نہیں بڑھتی۔

کیا اتنی آمدنی میں ایک خاندان باعزت زندگی گزار سکتا ہے؟ کیا امام مسجد کو اچھا کھانا کھانے، اچھے کپڑے پہننے اور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلوانے کا حق نہیں؟ کیا بیماری کی صورت میں اچھا علاج صرف صاحبِ حیثیت لوگوں کا حق ہے؟ کیا چار بچوں کا باپ ایک یا دو کمروں میں ساری زندگی گزار سکتا ہے؟

چند روز قبل ایک ضروری کام کے سلسلے میں ایک عالمِ دین کے گھر جانے کا اتفاق ہوا جو ایک بڑی جامع مسجد کے امام بھی ہیں۔ ان کے گھر داخل ہوا تو ایک چھوٹے سے کمرے میں بٹھایا گیا جہاں بمشکل ایک چارپائی اور دو کرسیاں سما سکتی تھیں۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ یہ گھر اپنا ہے یا کرائے کا؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ اپنا ہی ہے۔ والد صاحب نے پانچ مرلے جگہ لی تھی اور ایک کمرہ بنایا تھا۔ بعد میں اہلیہ نے محلے کے بچوں کو پڑھا کر تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی، کمیٹی ڈالی اور ایک کچن اور باتھ روم بنوایا۔ پھر ایک اور چھوٹا کمرہ بن سکا، مگر چار بچوں کے ساتھ اب بھی ایک ہی کمرے میں گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔

میں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ ایک بڑی جامع مسجد کے امام ہیں، مسجد کمیٹی یا مخیر حضرات نے کبھی مدد نہیں کی؟ ان کا جواب سن کر مجھے خود شرمندگی محسوس ہوئی۔ کہنے لگے، “میں چودہ سال سے اسی مسجد میں امامت کر رہا ہوں۔ آج تک کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ مسجد کے ساتھ موجود امام صاحب کے کمرے میں بھی اس لیے نہیں رہا کہ کہیں لوگ مجھے محتاج نہ سمجھنے لگیں۔ میں ختم یا دعوت میں جاتا ہوں تو وہاں کھانا بھی نہیں کھاتا کہ کہیں عادت نہ بن جائے۔ مسجد کمیٹی سے کبھی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ بھی نہیں کیا، جو وہ خود بڑھا دیں اسی پر شکر کرتا ہوں۔”

میں وہاں سے واپس تو آگیا مگر راستہ بھر ایک سوال ذہن میں گردش کرتا رہا کہ خوددار لوگوں کا احساس آخر کون کرے گا؟ کیا بطور معاشرہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے امام مسجد کے حالات بھی جانیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان کے بچے کن محرومیوں میں زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ بیماری کی صورت میں وہ کس ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں یا ان کے گھر کا خرچ کیسے چلتا ہے؟

میرے چند سوال مسجد کمیٹیوں سے بھی ہیں۔ کیا کمیٹی کی ذمہ داری صرف مسجد کی عمارت تک محدود ہے؟ کیا کبھی کسی امام سے پوچھا گیا کہ اس کی بیٹی کی شادی کیسے ہوگی؟ کیا کبھی یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ امام کرائے کے گھر میں رہتا ہے یا اپنے؟ کیا مسجد کے اضافی فنڈ سے امام کے گھر ایک کمرہ نہیں بنوایا جا سکتا؟ کیا امام کے بچوں کی تعلیم یا علاج کی ذمہ داری لینا کوئی غلط کام ہے؟ کیا مسجد فنڈ سے امام کے گھر کا بجلی بل ادا کرنا ناجائز ہے؟

اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے امام مسجد کو وہ عزت دے رہے ہیں جس کا وہ حق دار ہے؟

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے محلے کی مسجد کے امام سے ملیں، ان کے حالات جانیں، ان کی ضروریات سمجھیں اور ان کی مدد کو بھی عبادت سمجھیں۔ مسجد کی غیر ضروری تزئین و آرائش پر مزید رقم خرچ کرنے سے پہلے اس شخص کے گھر کا جائزہ لیں جو ساری زندگی مسجد کی خدمت میں گزار دیتا ہے۔

یقین کریں، امام مسجد کے گھر آسانی پیدا کرنا بھی اتنا ہی بڑا ثواب ہے جتنا مسجد کی خدمت کرنا۔

اللہ کریم ہمیں آسانیاں بانٹنے والا معاشرہ بنائے۔ آمین۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.