​چیئرمین ملک صداقت محمود کی قیادت میں پریس کلب دینہ کے وفد کی سینئر صحافی سید جہانگیر شاہ سے ملاقات

0

​چیئرمین ملک صداقت محمود کی قیادت میں پریس کلب دینہ کے وفد کی سینئر صحافی سید جہانگیر شاہ سے ملاقات
​دینہ (رپورٹ: محمد اقبال خان) چیئرمین پریس کلب دینہ ملک صداقت محمود کی قیادت میں صحافیوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سینئر صحافی سید جہانگیر شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کا بنیادی مقصد باہمی گلے شکوے دور کرنا اور پریس کلب دینہ کی بہتری و استحکام کے لیے مل جل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔
​وفد کے شرکاء:
اس اہم وفد میں پریس کلب کے صدر ربنواز گوندل سمیت ملک صداقت محمود، عمران منصور، ساجد عاجز، سید ذوالقرنین شاہ، سید جواد حسین نقوی، نثار مغل، سید امیر احمد شاہ، محمد اقبال خان، یاسر صدیق اور رانا شفاقت علی راجپوت شامل تھے۔
​قیادت کے اہم پیغامات:
​ملک صداقت محمود (چیئرمین): انہوں نے کہا کہ پریس کلب دینہ کی بنیاد رکھنے میں سید جہانگیر شاہ جیسے سینئر صحافیوں کی محنت شامل ہے۔ ہم تمام دوستوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور پریس کلب کی بہتری کے لیے متحد ہو کر کام کریں گے۔
​ربنواز گوندل (صدر): انہوں نے واضح کیا کہ سید جہانگیر شاہ سے ہمارا بھائیوں جیسا رشتہ ہے اور ہم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم ماضی کے گلے شکوے مٹا کر دینہ کی صحافی برادری کے فلاح و بہبود کے لیے آگے بڑھیں۔
​محمد اقبال خان (انفارمیشن سیکرٹری): انہوں نے کہا کہ سینئر صحافی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ماضی کی غلطیوں کو پس پشت ڈال کر ہمیں ان کی رہنمائی میں پریس کلب کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہے۔
​یاسر صدیق: انہوں نے اتفاق و اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پریس کلب ہمارا مشترکہ گھر ہے اور اس کے وقار میں اضافے کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
​سید جہانگیر شاہ کا ردعمل:
​سینئر صحافی سید جہانگیر شاہ نے تمام صحافیوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اختلافات زندگی کا حصہ ہیں مگر ہمارا مقصد ہمیشہ پریس کلب کی بہتری ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "تنقید برائے اصلاح” ایک مثبت عمل ہے مگر ہمیں "تنقید برائے تنقید” سے بچنا چاہیے۔ میں پہلے بھی پریس کلب کا حصہ تھا اور ہمیشہ رہوں گا۔
​ملاقات کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پریس کلب دینہ کے پلیٹ فارم کو مزید فعال بنایا جائے گا اور صحافتی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے علاقے کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.