مہنگائی کا جن بے قابو: دینہ اور جہلم میں آٹے کی قیمتیں آسمان پر، انتظامیہ بے بس
جہلم/ دینہ (اقبال خان)
ملک بھر کی طرح ضلع جہلم اور بالخصوص تحصیل دینہ میں بھی مہنگائی نے عام شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مارکیٹ میں گندم کی نئی فصل آنے کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن بنا رہا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد آٹے کا 15 کلو کا تھیلا ریکارڈ 1910 روپے تک جا پہنچا ہے، جس نے دیہاڑی دار اور عام صارف کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
اوپن مارکیٹ اور فلور ملز کا تضاد
عوامی حلقوں اور ماہرینِ معاشیات کے لیے فلور ملز مالکان کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے، کیونکہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت 4400 روپے کے لگ بھگ مستحکم ہے۔ گندم کی وافر دستیابی کے باوجود آٹے کے نرخوں میں من مانا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ منافع خور مافیا نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لیے کمر کس لی ہے۔
شہریوں کا ردِعمل: "ایک طرف ملک میں بیروزگاری عروج پر ہے اور دوسری طرف آٹا، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، وہ بھی غریب کی پہنچ سے دور کیا جا رہا ہے۔ اگر انتظامیہ نے اب بھی نوٹس نہ لیا تو لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔”
انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات
مہنگائی کی اس حالیہ لہر کے سامنے مقامی انتظامیہ بالکل بے بس نظر آ رہی ہے۔ قیمتوں کو کنٹرول کرنے والا سرکاری میکانزم خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہے، جس کی وجہ سے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے۔
فوری کارروائی کا مطالبہ
دینہ اور جہلم کے عوامی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔
فلور ملز اور گندم کے اسٹاکس کا آڈٹ کیا جائے تاکہ ناجائز منافع خوری کا سدِباب ہو سکے۔
سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد کروا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
اگر انتظامیہ نے فوری طور پر اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک نہ کیا تو یہ بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔