دینہ ٹرانسفارمر چوری کرنے کی ناکام کوشش، چور موقع سے فرار؛ شہریوں میں تشویش کی لہر

0

ٹرانسفارمر چوری کرنے کی ناکام کوشش، چور موقع سے فرار؛ شہریوں میں تشویش کی لہر
​دینہ (بیورو رپورٹ،اقبال خان )
​دینہ سٹی مال کے قریب رات کی تاریکی میں بجلی کا قیمتی ٹرانسفارمر چوری کرنے کی مبینہ کوشش نے شہریوں اور تاجر برادری میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ٹرانسفارمر چوری کا سلسلہ نہ تھمنے پر عوامی حلقوں نے ڈی پی او جہلم سے فوری نوٹس لینے اور گشت بڑھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
​چور ٹرانسفارمر چھوڑ کر بھاگ نکلے
​ذرائع کے مطابق گزشتہ رات نامعلوم چوروں نے دینہ سٹی مال کے قریب نصب بجلی کے ٹرانسفارمر کو نشانہ بنایا۔ انتہائی مہارت کے ساتھ نامعلوم افراد ٹرانسفارمر کو پول سے نیچے اتار چکے تھے، تاہم اسی دوران کسی شہری کی اچانک آمد یا موجودگی کا احساس ہوتے ہی چور پکڑے جانے کے خوف سے ٹرانسفارمر کو وہیں زمین پر چھوڑ کر رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
​تکنیکی مہارت یا اندرونی سازش؟ شہریوں کے اہم سوالات
​اس سنگین واقعے کے بعد دینہ کے شہریوں کی جانب سے واپڈا حکام اور مقامی انتظامیہ پر کئی اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں:
​آخر کیا وجہ ہے کہ بار بار صرف واپڈا کے ٹرانسفارمرز ہی چوروں کا آسان ہدف بن رہے ہیں؟
​کیا ایک عام چور یا عام شخص رات کے گھپ اندھیرے میں اتنے ہائی وولٹیج ٹرانسفارمر کو محفوظ طریقے سے نیچے اتار سکتا ہے؟
​چوروں کو یہ باریک معلومات کیسے حاصل ہوتی ہیں کہ بجلی کے کنکشن کس طرح منقطع کرنے ہیں، کون سے لنکس پہلے اتارنے ہیں اور کس طریقہ کار سے اس انتہائی خطرناک برقی نظام سے خود کو محفوظ رکھنا ہے؟

برقی ماہرین کا کہنا ہے کہ چالو لائن سے ٹرانسفارمر کو اتارنا ایک انتہائی تکنیکی، پیچیدہ اور جان لیوا عمل ہے۔ اس کام کے لیے مخصوص اوزاروں، تکنیکی معلومات اور باقاعدہ تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ شکایات بڑھ رہی ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی منظم گروہ کارفرما ہے یا پھر قومی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کسی اندرونی معلومات (ان سائیڈ ہیلپ) کا فائدہ حاصل ہے۔
​عوامی حلقوں اور
​علاقہ مکینوں، تاجروں اور عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں، واپڈا کے اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
​دینہ سٹی اور گردونواح میں رات کے اوقات میں پولیس اور واپڈا ٹاسک فورس کی سیکیورٹی اور گشت کو فوری طور پر مؤثر بنایا جائے۔
​حساس برقی تنصیبات اور گرڈ اسٹیشنز کے قریبی مقامات پر نگرانی بڑھائی جائے۔
​اس واقعے کی مکمل، شفاف اور اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس چوری کے پیچھے کون سے عناصر ملوث ہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر قومی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے

Leave A Reply

Your email address will not be published.