
اسلام آباد
سابق موٹرسائیکل ریسنگ اسٹار ایکسل پونز ننگے پاؤں دنیا کے سفر پر ۔ ہم پاکستانی اس کو ملنگ سمجھ بیٹھے تھے
موٹو 2 ورلڈ چیمپئن شپ کے سابق اسٹار ایکسل پونز، جو دو مرتبہ کے موٹو جی پی ونر اور لیجنڈری ریسنگ اسٹار سیٹو پونز کے بیٹے ہیں، نے اپنی زندگی میں ایک انوکھا موڑ لیا ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ رفتار اور شہرت کے مرکز میں تھے، مگر آج وہ سادگی اور خود شناسی کی مثال بن گئے ہیں۔
ریسنگ کیریئر میں کامیابیوں کے باوجود 2016 کے سیزن میں سولہویں پوزیشن حاصل کرنا ان کے لیے مایوس کن رہا۔ اس کے بعد انہوں نے موٹرسائیکل ریسنگ کو خیرباد کہہ کر فیشن ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا، لیکن یہ راستہ بھی انہیں دیرپا سکون فراہم نہ کر سکا۔ 2019 میں انہوں نے ہسپانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی زندگی کو ماضی کی یادوں سے آزاد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اسی عزم نے انہیں ایک غیر روایتی اور حیران کن راستے پر ڈال دیا۔ انہوں نے ننگے پاؤں دنیا کا سفر شروع کیا اور پچھلے چھ برسوں سے مسلسل پیدل چل رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایکسل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ پاکستان کے حسین علاقوں سے گزرتے دکھائی دیے۔
ویڈیو میں گلگت بلتستان کی پہاڑیوں کے بیچ ایکسل نے بتایا کہ یہ سفر ان کے لیے نہ صرف ایک جسمانی مشق ہے بلکہ ایک روحانی تجربہ بھی۔ ان کا کہنا تھا، "پچھلے چھ سالوں سے ننگے پاؤں سفر کر رہا ہوں، اور یہ میرے لیے زندگی کے حقیقی معنی جاننے کا ذریعہ ہے۔”
پاکستان میں ان کے گزرنے پر مقامی افراد نے حیرت اور خوشی کا اظہار کیا۔ ان کے ننگے پاؤں سفر نے سادگی اور استقامت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ایکسل کا یہ سفر نہ صرف ان کی زندگی میں ایک تبدیلی کا باعث بنا ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے بھی ایک انسپائریشن ہے کہ زندگی کے حقیقی معنی تیز رفتاری یا مادی کامیابی میں نہیں بلکہ سکون اور خود شناسی میں ہیں۔
یہ کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم اپنی مصروف زندگیوں میں کبھی ٹھہر کر سادگی کو گلے لگانے کا وقت نکال سکتے ہیں؟ ایکسل پونز کا یہ سفر یقیناً ایک منفرد مثال ہے۔