پڑھے لکھے پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک کی بجائے اپنے ملک میں کاروبار کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے,غلام احمد زمرد یعقوب

ہجرت کرنا ہر انسان کابنیادی حق ہے تاہم غیر قانونی ہجرت ایک سنگین اقدام ہے جس کے نتائج بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں,مہر محمد فیاض

0

 

 

 

جہلم ( راجہ نوبہار  )غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے جہلم کے نجی کالج میں طلباء و طالبات کے ساتھ ڈائیلاگ سیشن ۔پارلیمنٹریز۔سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے طلبہ کے سوالات ۔انکے جوابات ۔طلبہ نے ایسے پروگرامز باربار کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
برطانوی ہائی کمیشن کے اشتراک سے سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے اسپائیر کالج جہلم میں غیر قانونی انسانی سمگلنگ کے روک تھام کے موضوع پر یوتھ ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پارلیمنٹرینز اور طلباء و طالبات نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس تقریب کا مقصد نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کے سماجی و اقتصادی اثرات اور اس کے حل کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
یوتھ ڈائیلاگ کی تقریب میں سابق ایم پی اے مسلم لیگ ن مہر محمد فیاض ، سابق تحصیل ناظم جہلم چوہدری غلام احمد زمرد یعقوب ،ذیشان جرال چئیرمین ورکر گروپ پی ٹی آئی جہلم،اساتذہ ، طلباء و طالبات سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے مہر محمد فیاض کاکہنا تھا کہ ہجرت کرنا ہر انسان کابنیادی حق ہے تاہم غیر قانونی ہجرت ایک سنگین اقدام ہے جس کے نتائج بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں جو لوگ ہجرت کر کے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ قانونی طریقہ کار کو اپنائیں اور کسی کام میں مہارت حاصل کریں تاکہ بیرون ملک انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چوہدری غلام احمد زمرد یعقوب نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھے پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک کی بجائے اپنے ملک میں کاروبار کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
ذیشان جرال نے شرکاء سے خطاب کے دوران کہا کہ غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ شکنی کے لئے ایس ایس ڈی کا یہ اقدام قابل ستائش ہے نوجوان نسل ہمارے ملک کے روشن مستقبل کا حصہ ہے اس لیے میرا نوجوان نسل سے یہی پیغام ہے کہ غیر قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہجرت ایک بہت بڑا رسک ہے جس میں جان و مال کو داؤ پر لگا کر بہت سے پاکستانی نوجوان اپنی جانیں تک گنوا چکے ہیں اس لئے غیر قانونی ہجرت کی بجائے قانونی طریقےسے ہجرت کریں ۔یوتھ ڈائیلاگ میں شرکاء نے غیر قانونی ہجرت کے اثرات پر کھل کر بات کی اور اس کے حل کے مختلف طریقوں پر گفتگو کی۔ تقریب کے دوران نوجوانوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں اس موضوع پر مزید آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ شرکاء نے یہ بھی تجویز کیا کہ حکومت کو نوجوانوں کے لیے تعلیمی و فنی تربیت کے پروگرامز بڑھانے چاہئیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور بے قاعدہ ہجرت کی طرف راغب نہ ہوں۔

اس کے علاوہ اس ڈائیلاگ میں طلباء و طالبات نے ہجرت کی وجوہات اور اس کے حل کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان اس اہم مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس کے حل کے لیے سرگرم ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.