
گلے میں بیگ لٹکانے کی قیمت
تحریر محمد اقبال خان
ایک دن بیٹھے بیٹھے ذہن میں خیال آیا کہ برٹش آتے ہیں ان کے گلے میں بیگ لٹک رہا ہوتا ہے آخر ہم کیوں نہیں لٹکا سکتے ۔آخر کار فیصلہ کر لیا کہ گلے والا بیگ ہم بھی ضرور لٹکائیں گے۔ لنڈا مارکیٹ کا رخ کیا اور وہاں سے ایڈڈاس کمپنی کا اعلی قسم کا بیگ سستے داموں خریدا۔ گھر آ کر اسے خوب ایکسپریس سرف سے دھویا ۔بیگ ایسے چمک۔ دینے لگا جیسے نیا ہو ۔دوسرے دن تیار ہو کر بیگ گلے میں ڈالا اور شہر کا رخ کر لیا ۔جہاں سے گزرتا لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے میں دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ لوگ۔ سمجھ رہے ہیں یہ یورپ سے شاید آیا ہو ۔بیگ گلے میں میرے۔ احساسات ساتویں آسمان کو چھو رہے تھے ۔سب سے پہلے شہر پہنچ کر ناشتہ کرنے کا پروگرام بنایا تو ناشتے کی دوکان پر پہنچا ۔ناشتے والے نے ایک بار مجھے پھر میرے بیگ کی طرف دیکھا ۔اس نے مجھے وی وی آئی پی پروٹوکول دینا شروع کر دیا ۔ٹیبل۔ کی صفائی نیسلے کی بوتل اور پھر پوچھا سر کیا کھانا پسند کریں گے پائے بہت کلاس کے بنے ہیں آخر ناشتہ کیا تو بل دینے کی باری آئی تو اس نے کہا جناب 2500 روپے آپ کے ہوئے میں ہکا بکا رہ گیا کہ گلے میں بیگ ڈالنے کا پہلا وار مجھ پر ہو چکا تھا۔ اب میں شہر میں فروٹ خریدنے سبزی منڈی گیا تو سب اونچی اونچی آوازیں لگانے لگے اعلی سیب اعلی آم اعلی آڑو آخر میں ایک دوکاندار کے پاس گیا تو اس نے مجھے وی وی آِی پی پروٹول دیا اور کہا صاحب ہم نے اچھا مال آپ جیسے گاہکوں کے لیے الگ کر کے رکھا ہوتا ہے باقی مکس مال عام عوام کے لیے ہوتا ہے خیر اس نے بھی ڈبل ریٹ کا ٹیکہ لگا ہی دیا شاید اس نے بھی یورپ کا گمان کیا ۔میں نے سوچا کیوں نہ کسی اچھے نائی سے حجامت کرائی جائے خدا خدا کرتے ایک نائی کی دوکان مل گئی اندر دوکان کے اندر داخل ہوا تو نائی نے ایک بار مجھے اور پھر میرے بیگ کی طرف ایسے دیکھا جیسے میں اس دنیا کی نہی کسی سیارے کی مخلوق ہوں اس نے سب سے پہلے تو اپنے شاگرد سے کہا اوئے چھوٹے دوڑ کر صاحبوں کے لیے پیپسی کی بوتل لیکر آ ۔اس نے مجھے کرسی پر بیٹھایا اور پوچھا سر کون سا کٹ کروں کوئی بیس قسم کے نام اس نے گنوا دئیے خیر اس نے میرے سر کا وہ حال کیا کہ وہ نہ وہ سر لگ رہا تھا اور نہ کٹورا ساتھ ہی اس نے تین چار قسم کی کریمیں نکالی اور میرے۔چہرے کی۔رگڑائی شروع کر دی ۔خیر جب بل۔کا وقت آیا تو اس نے کہا سر جی آپ پانچ ہزار دے دیں بنتے تو زیادہ ہیں میرے اوسان خطا ہو گئے جو کام میں گامے نائی سے ڈھائی تین سو میں کراتا تھا اس بیگ نے پانچ ہزار تک پہنچا دیا ۔خیر یہ منزل بھی طے ہوئی تو ایک سرکاری دفتر کا کام یاد آ گیا دفتر پہنچا تو بہت زیادہ رش تھا لیکن ایک صاحب کرسی سے اٹھے اور میرے پاس آئے اور مجھے اپنے کمرے میں لے گئے انہوں نے مجھے کہا جناب لائن میں تھوڑا آپ کے کام ہونگے آپ تو ہمارے لیے وی وی آئی پی ہیں آپ کام بتائیں خیر مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس نے بھی مجھے نہیں میرے بیگ کو پروٹوکول دے رہا ہے یہاں بھی کپڑے اتریں گے ۔خیر ایسے ہی ہوا جو کام چند رپوں سے ممکن تھا وہ ہزاروں سے ہوا ۔آخر کار میں نے فیصلہ کر لیا کہ گھر پہنچتے سب سے پہلے اس بیگ کو آگ لگاو گا یہ تو میرے لیے مصیبت بن گیا ۔آخر کار سوچا کہ اپنے حال میں رہنا ہی بہتر ہے یہاں بیگ گلے میں ڈالنے کی بڑی قیمت چگانی پڑتی ہے ۔