
کون بنے گا سپر طاقت
تحریر محمد اقبال
امریکہ روس چین تین بڑے طاقت ور ممالک ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں پورا زور لگا رہے ہیں ۔ایک ملک دوسرے ملک کی کسی ملک میں مداخلت برداشت نہیں کر پا رہا ۔معاشی مفادات کو نقصان پہچانے میں پیش پیش ۔یوکرائن کی جنگ میں امریکہ اور روس آمنے سامنے ہیں ایک طرف امریکہ کے ساتھ یورپی ممالک اور نیٹو کی افواج تو دوسری طرف چین اور روس اس کے سامنے طاقت بن کر کھڑے ہیں ۔چھوٹے ممالک دونوں گروپوں کے کسی بھی شکل میں اتحادی ہیں ۔چین اس وقت دنیا کی سپر طاقت بن کر سامنے آ چکا ہے ۔امریکہ ایک بار پھر چین کے معاشی مفادات کو نقصان پہچانے اور اس کی قریب آنے کے لیے افغانستان پر قبضے کی سوچ رہا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ برطانیہ میں ایک بار پھر یہ کہا کہ بگرام ائیر بیس میری ہے اور میں اسے دوبارہ واپس لونگا یہاں یہ بات قابل ذکر ہے بگرام ائیر بیس دنیا کی سب سے بڑی ائیر بیس ہے جو افغانستان نے چین کے حوالے کر دی ہے ۔جب کہ دوسری طرف امریکہ اور روس یورپ کے سمندر میں جنگی بیڑے لیے تیار بیٹھے ہیں ایک چھوٹی سی غلطی تیسری عالمی جنگ کا بگل بجا سکتی ہے ۔بڑی کی جنگ نے چھوٹے ممالک کی معیشت تباہ کر کے رکھ دی ہے بات یہاں تک ہی محدود نہیں بڑے ممالک اپنی طاقت مضبوط کرنے کے لیے چھوٹے ممالک میں حکومتیں بدلنے کے تجربات بھی کرتے ہیں تاکہ بمشکل وقت میں یہ ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہوں جیسے ایران کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔امریکہ اسرائیل نے اپنا پورا زور لگایا کہ وہاں حکومت ختم کر کے اپنی حکومت قائم ہو لیکن ناکام رہے ۔یہ جنگ ہے سپر طاقت کی ۔کون بنے گا سپر طاقت