سی ای او ہیلتھ میاں مظہر حیات نے پاکستان میں بجٹ کی شفافیت میں کمی کو اجاگر کیا

0

جہلم (اقبال خان)سی ای او ہیلتھ میاں مظہر حیات نے پاکستان میں بجٹ کی شفافیت میں کمی کو اجاگر کیا۔

سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز کی ایک حالیہ رپورٹ نے پورے پاکستان میں بجٹ کی شفافیت، عوامی شرکت اور احتساب میں نمایاں فرق کو ظاہر کیا ہے۔ یہ نتائج ڈی ایچ ڈی سی ہال جہلم میں میڈیا بریفنگ کے دوران بتائے گئے، جس کا اہتمام سٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبلٹی کے پلیٹ فارم کے تحت سٹیزن ریلیشن گروپ جہلم نے کیا تھا۔

بریفنگ کے اوپری حصے میں بات کرتے ہوئے، سی ای او ہیلتھ میاں مظہر حیات نے عوامی مالیاتی انتظام میں شفافیت اور جوابدہی کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد بڑھانے اور گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے کھلے پن کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
مزید سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر میاں مظہر حیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پی ڈی آئی نے ایک اچھی کاوش کی ے بجٹ میں شفافیت ضرور ہونی چاہئیے ۔محکمہ ہیلتھ اور دیگر سرکاری محکموں میں وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ مریم نواز صاحبہ خود کے ویژن کے تحت اپنے تمام شعبہ جات میں شفافیت اور خود احتسابی کو بروئے کار لا رہے ہیں ۔ہماری تمام چیزیں عوام کے لیے اوپن ے اور کوشش ہوتی ے کہ بجٹ میں عوام کی ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے اور تمام شعبوں میں شفافیت اور احتساب کو اہمیت دی جا رہی ے۔اور آئندہ بھی اس عمل کو جاری و ساری رکھا جائے گا ۔عوام کی شرکت بجٹ سازی کے عمل میں بہت ضروری ے اور ان کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بجٹ تجویز کو زیادہ سے زیادہ پزیرائی ملتی ے تو اس کے باعث عوام کے لیے بجٹ کا نفاذ زیادہ سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ے۔اور ہماری کوشش ہوتی ے کہ ہر محکمے کے اندر عوام کی ایسی تجاویز انہی کے لیے بجٹ کے نفاز کے لیے عملی طور پر فائدہ دے سکے ۔شہریوں کی شرکت بجٹ کے مراحل میں ہمارے لیے بھی اتنی ضروری ے جتنا کہ باقی محکموں کے لیے ۔ اور ہماری تمام تجاویز عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی بجٹ کے عمل درآمد کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔

اسٹیٹ آف بجٹ ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2025 مالی سال 2024-25 پر فوکس کرتی ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ مالی سال 2025-26 کا مکمل ڈیٹا ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجٹ کی شفافیت محدود اور متضاد ہے، جس میں شہری بڑی حد تک فیصلہ سازی کے عمل سے باہر ہیں۔

ڈسٹرکٹ فوکل پرسن چوہدری نیاز حسین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بجٹ ابھی بھی صحیح معنوں میں عوامی نہیں ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو منصوبہ بندی کے مرحلے میں شامل ہونے کی بجائے فیصلے کرنے کے بعد ہی آگاہ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بجٹ وقت پر پیش کیے جانے کے باوجود محدود بحث اور ناکافی جانچ پڑتال کی وجہ سے پارلیمانی نگرانی کمزور رہتی ہے۔ عمل درآمد کے مرحلے کے دوران شفافیت میں مزید کمی واقع ہوتی ہے، کیونکہ حکومتیں اکثر وقت پر اخراجات اور آڈٹ رپورٹ شائع کرنے میں ناکام رہتی ہیں، جس سے مؤثر احتساب کو محدود کیا جاتا ہے۔

صوبائی موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کے بعد وفاقی حکومت ہے، جبکہ سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان بدستور پیچھے ہیں۔ تاہم، مجموعی طور پر شفافیت کی سطح پورے ملک میں قابل قبول معیارات سے نیچے ہے۔

سی پی ڈی آئی اور سی این بی اے کے ذریعے جو کہ 101 اضلاع میں ایک نیٹ ورک فعال ہے، تحقیقی رپورٹس شائع کرنے، مشاورت کا اہتمام کرکے، اور پاکستان میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق جامع بجٹ کے عمل کی وکالت کرکے شفافیت کو فروغ دینے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.