دینہ: پریس کلب میں الیکٹرانک میڈیا کا اہم اجلاس، الیکٹرانک میڈیا کے نئے انتخابات کا بگل بج گیا
دینہ (رپورٹ: محمد اقبال خان) پریس کلب دینہ میں الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان کا ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس صدر پریس کلب ربنواز گوندل کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جس میں تنظیم کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز
پروگرام کا آغاز اللہ رب العزت کے بابرکت نام سے کیا گیا۔ نائب صدر پریس کلب دینہ احسان جنجوعہ نے تلاوتِ قرآن پاک اور ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد جنرل سیکرٹری پریس کلب افتخار احمد مغل نے ہاؤس کے سامنے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا اور گزشتہ کارروائی سے آگاہ کیا۔
الیکٹرانک میڈیا کے انتخابات کا اعلان
اجلاس کا سب سے اہم موڑ الیکٹرانک میڈیا کے نئے انتخابات کا اعلان تھا۔ صدر پریس کلب ربنواز گوندل نے باقاعدہ طور پر الیکشن شیڈول کی تیاری کا حکم دیتے ہوئے تمام ممبران کو ہدایت کی کہ وہ انتخابی عمل کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کریں۔
صدر پریس کلب کا خطاب اور کارکردگی پر تحفظات
اپنے صدارتی خطاب میں ربنواز گوندل نے الیکٹرانک میڈیا کی موجودہ کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:
”الیکٹرانک میڈیا کی حالیہ کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ تمام نمائندگان کو چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سمجھیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنے کام پر بھرپور توجہ دیں۔”
انہوں نے اجلاس کے دوران ‘فل ہاؤس’ میں موجود تمام ممبران سے فرداً فرداً رائے لی اور ان کے تحفظات و تجاویز سنیں۔ صدر پریس کلب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارے کی مضبوطی کے لیے اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے تاکہ اتفاقِ رائے سے صحافتی معیار کو بلند کیا جا سکے۔
شرکاء اجلاس
اجلاس میں پریس کلب کی قیادت اور الیکٹرانک میڈیا کے سنئیر صحافیوں نے شرکت کی، جن میں درج ذیل نام نمایاں ہیں:
شیخ عتیق (سینئر نائب صدر)
احسان جنجوعہ (نائب صدر)
افتخار احمد مغل (جنرل سیکرٹری)
فیصل افضل (جوائنٹ سیکرٹری)
محمد اقبال خان (انفارمیشن سیکرٹری)
سید امیر احمد شاہ، ذوالفقار کیانی، شازیب بٹ، ساجد عاجز، فرحان شاہ، محمد افضل، ذوالفقار احمد، ندیم عباس، سید ذوالقرنین شاہ، زوہیب کیانی اور فیضان کیانی۔
اجلاس کے اختتام پر تمام ممبران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دینہ کی تعمیر و ترقی اور سچی صحافت کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے