لاک ڈاؤن کی لٹکتی تلوار: دینہ اور گردونواح میں تاجر برادری شدید پریشان، کاروبار تباہ،لاک ڈاون ختم کرنے کا مطالبہ
دینہ(اقبال خان)لاک ڈاؤن کی لٹکتی تلوار: دینہ اور گردونواح میں تاجر برادری شدید پریشان، کاروبار تباہ
شدید گرمی اور شام ہوتے ہی دکانیں بند کرنے کے احکامات نے تاجروں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا، حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ
ملک بھر کی طرح تحصیل دینہ اور ضلع جہلم میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن اور مارکیٹوں کی جلد بندش کے فیصلوں نے تاجر برادری کے کمرشل نیٹ ورک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی مسلسل لٹکتی تلوار نے تاجر برادری کا روزانہ کا لاکھوں روپے کا نقصان کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے مقامی معیشت کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان دنوں دن کے وقت پڑنے والی شدید اور ریکارڈ توڑ گرمی کی وجہ سے گاہک اور عام عوام مارکیٹوں کا رخ کرنے سے مکمل گریز کر رہے ہیں۔ مین بازار دینہ سمیت شہر کے دیگر تجارتی مراکز دن بھر ویرانی کا منظر پیش کرتے ہیں اور دکاندار گاہکوں کی راہ تکتے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی شام کے وقت موسم کچھ سازگار ہوتا ہے اور گاہک گھروں سے نکلنے کی تیاری کرتے ہیں، ویسے ہی انتظامیہ کی جانب سے لاک ڈاؤن کی گھنٹی بجا دی جاتی ہے۔ شام ہوتے ہی دکانیں جبراً بند کروانے کے اس عمل سے دکانداروں کے روزگار میں دن بدن خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں جاری بے لگام مہنگائی نے نہ صرف عام عوام کو شدید متاثر کیا ہے جو بنیادی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کے لیے بھی دشواری کا سامنا کر رہے ہیں، بلکہ اس کی براہِ راست زد میں تاجر طبقہ بھی آ چکا ہے۔ دکانوں کا سیلز گراف صفر ہونے کے باوجود مالکان کو دکانوں کے بھاری بھرکم کرایے، بجلی کے کمرشل بلز اور ملازمین کی تنخواہیں جیب سے ادا کرنی پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ سے کئی چھوٹے دکاندار دکانیں مستقل بند کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
دینہ کی تاجر برادری نے حکومتِ وقت اور مقامی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی اس لٹکتی تلوار کو ہمارے سروں سے فوری ختم کیا جائے۔ تجارتی تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تاجر دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کاروبار پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں، لہٰذا مارکیٹوں کے اوقاتِ کار میں فوری توسیع کی جائے تاکہ تاجر برادری مزید معاشی تباہی سے بچ سکے اور عوام بھی سکون سے خریداری کر سکیں۔