دینہ: ریڑھی بانوں کے لیے بازار تو بن گیا لیکن دکانیں نہ مل سکیں، غریب ریڑھی بان در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور
دینہ: ریڑھی بانوں کے لیے بازار تو بن گیا لیکن دکانیں نہ مل سکیں، غریب تاجر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور
دینہ (اقبال خان): تحصیل دینہ میں غریب اور محنت کش ریڑھی بانوں کے روزگار کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔ جی ٹی روڈ پر ریڑھی بانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے ایک خوبصورت بازار اور دکانیں تو تیار کر دی گئی ہیں، لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ دکانیں اصل حقداروں کے حوالے نہیں کی جا سکیں، جس کی وجہ سے ریڑھی بان سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔
روزگار کے مسائل میں اضافہ اور انتظامیہ کا سخت رویہ
مقامی ریڑھی بانوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف انہیں شہر کی سڑکوں یا بازاروں میں کہیں بھی مستقل کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں مسلسل ہٹایا جاتا ہے، تو دوسری طرف ان کے لیے بنایا گیا بازار تاحال بند پڑا ہے۔ ریڑھی بان روزانہ معصوم نظروں سے ان تیار دکانوں کو دیکھتے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب انہیں اپنے روزگار کا مستقل ٹھکانہ ملے گا۔ مستقل جگہ نہ ہونے کے باعث ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں اور ان کے معاشی مسائل حد سے بڑھ چکے ہیں۔
مافیا کے قبضے کا خدشہ اور عوامی تشویش
عوامی اور سماجی حلقوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دکانیں تیار ہونے کے باوجود غریبوں کو منتقل نہ کرنا کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ یہ دکانیں واقعی ان کے اصل حقداروں یعنی غریب ریڑھی بانوں کے حوالے کرتی ہے، یا ماضی کی طرح یہاں بھی کوئی بااثر مافیا دکانوں پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
شفاف قرعہ اندازی کا پرزور مطالبہ
دینہ کے عوامی حلقوں، سول سوسائٹی اور متاثرہ ریڑھی بانوں نے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
جی ٹی روڈ پر قائم بازار کی دکانوں کو کسی بھی قسم کی سیاسی یا ذاتی سفارش سے پاک رکھا جائے۔
حقداروں کے تعین کے لیے مکمل شفاف انداز میں قرعہ اندازی (Balloting) کروائی جائے۔
غریب ریڑھی بانوں کو فوری طور پر یہ دکانیں الاٹ کر کے انہیں در بدری کے عذاب اور سڑکوں پر دھکے کھانے سے نجات دلائی جائے۔