قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی

0

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی صدر مملکت کے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد سینیٹ میں پیش کی گئی جو کہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا، آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کی جائے۔

چیئرمین سینیٹ کی ووٹنگ کے بعد قرارداد منظور کرلی گئی۔

ایوان بالا میں قرارداد کی منظوری پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے ڈائس کے سامنے قرارداد کی کاپی پھاڑ دی، ایوان بالا مچھلی منڈی بن گیا، اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پی ٹی آئی ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

سب کچھ طے شدہ تھا، فیصل واوڈا نے ایمرجنسی کا ایک ماہ پہلے بتادیا تھا، ہمایوں مہمند

قرارداد پر بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے اور دہشت گردی کو اس کے لیے بہانہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستانیسیاحت

ہمایوں مہمند کے مطابق فیصل واوڈا نے ایک ماہ پہلے ہی ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی پیش گوئی کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا صاف بات کرتے ہیں اور بغل میں چھری، منہ پر رام رام نہیں کرتے۔

سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی فون لے جانے اور ریکارڈنگ کے معاملے پر حکومتی ٹیم پر اعتبار نہیں کررہے تھے کیونکہ حکومتی میڈیکل ٹیم پانچ ہفتوں تک بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر بھی ٹھیک نہیں کرسکی۔

انہوں نے کہا کہ مفرور نواز شریف سے ملاقات کے لیے پوری کابینہ سرکاری خرچ پر لندن جاتی رہی، جبکہ وفاق کی جانب سے پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ 1970 سے اب تک وفاقی فیصلے غلط ثابت ہوئے ہیں، اس لیے موجودہ پالیسی پر بحث کیوں نہ کی جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کے کائنیٹک اور نان کائنیٹک دونوں پہلوؤں پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نومبر 2023 میں خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ وفاق کسی بھی اقدام سے پہلے صوبائی اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کا پابند ہے۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے مزید کہا کہ صوبے کو دیے جانے والے 800 ارب روپے کے طعنے بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سالانہ حساب سے یہ رقم بہت کم بنتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.