دینہ: جی ٹی روڈ سے اتاری گئی سیفٹی گرل کہاں گئی؟ عوامی حلقوں نے سوال اٹھا دیا، انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
دینہ: جی ٹی روڈ سے اتاری گئی سیفٹی گرل کہاں گئی؟ عوامی حلقوں نے سوال اٹھا دیا، انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
دینہ اقبال خان
دینہ میں مین جی ٹی روڈ سے اتاری گئی سیفٹی گرل کہاں منتقل کی گئی اور تاحال دوبارہ نصب کیوں نہیں کی جا سکی؟ عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ سے فوری نوٹس لینے اور سیفٹی گرل کی عدم موجودگی کی وجوہات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق دینہ کے مین جی ٹی روڈ سے مختلف مقامات پر نصب حفاظتی جنگلے اتار دیے گئے تھے، جن کا مقصد شہریوں کو سڑک عبور کرتے وقت حادثات سے محفوظ رکھنا تھا۔ سیفٹی گرل ہٹائے جانے کے بعد پیدل سڑک عبور کرنے والے شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات اور حادثات کے خدشات کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی دینہ میں جی ٹی روڈ پر اوورہیڈ برج کی سہولت موجود نہیں، ایسے میں حفاظتی جنگلوں کا ہٹا دیا جانا شہریوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق سیفٹی گرل اتارنے کی وجوہات کیا تھیں؟ انہیں کس محکمے یا ٹھیکیدار نے اتارا؟ اتارے گئے جنگلے کہاں منتقل کیے گئے اور ان کی دوبارہ تنصیب میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات متعلقہ حکام کو دینے چاہئیں۔
شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اتاری گئی سیفٹی گرل کا ریکارڈ اور موجودہ مقام واضح نہ کیا گیا تو یہ معاملہ قومی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک اہم سوال بن سکتا ہے۔ حفاظتی جنگلوں کی عدم موجودگی نہ صرف سرکاری املاک کے تحفظ بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
عوامی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کروائی جائیں، اتاری گئی سیفٹی گرل کی موجودہ جگہ اور ذمہ دار محکمے کی نشاندہی کی جائے اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جی ٹی روڈ پر حفاظتی جنگلوں کی دوبارہ تنصیب یقینی بنائی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے انتظامیہ کو فوری عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔