درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے ۔ اور ہمارا قومی فریضہ بھی ۔وقت کا تقاضا بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں ،امیر ڈاکٹر واجد پیر زادہ

0

 

 

دینہ ( سید توقیر آصف شاہ)درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے ۔ اور ہمارا قومی فریضہ بھی ۔وقت کا تقاضا بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں ۔ موجودہ دور میں جہاں عام آدمی کو مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے وہاں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی اور موسموں کی بدلتی ہوئی صورتحال نے بنی نوع انسان کے لیے مسائل کا انبار کھڑا کر دیا ہے ۔ چنانچہ اب یہ اہم ضرورت ہے کہ جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں ۔ کوشش ہونی چاہیے کہ مقامی درخت لگانے کوترجیح دی جائے ۔ مقامی درخت سے مراد کیکر ۔ شیشم ۔ سُمبلو ۔ پاپولر ۔ نیم ۔ دھریک ۔ بکائن ۔ فالسہ ۔ بیری ۔ جامن ۔ آم ۔ توت ۔ شہتوت ۔ آمرود ۔ انار ۔ مالٹا ۔ کینو ۔ خوبانی وغیرہ ۔ اپنی زمینوں کے کناروں اور فالتو جگہوں پر ایسے پودے لگانے سے نہ صرف ماحول سر سبز و شاداب رہے گا بلکہ زمینداروں کو خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔
ان خیالات کا اظہار تنظیم سادات بنی ہاشم پاکستان کے امیر ڈاکٹر واجد پیر زادہ نے اپنے آبائی قبرستان پیل پیراں خوشاب میں بریگیڈیر ( ر ) شہزادہ شاہ کے ہمراہ انجیر کا پودا لگا کر شاداب پاکستان مہم کا آغاز کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم سادات بنی ہاشم پاکستان کی ذیلی شاخیں اور بالخصوص تنظیم کے تمام اراکین اس مہم کو کامیاب بناتے ہوئے ملکی سطح پر پھیلانے کے لیے بھر پور کوشش کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.