دینہ شہر تحصیل صرف نام کی حد تک تو بن گئی لیکن بنیادی سہولیات سے محروم ۔نہ کچہری نہ ٹی ایچ کیو
ہر سیاسی جماعت نے عوام کو سبز باغ دکھئے ،عوام بنیادی سہولیات سے محروم

دینہ شہر تحصیل صرف نام کی حد تک تو بن گئی لیکن بنیادی سہولیات سے محروم ۔نہ کچہری نہ ٹی ایچ کیو ،ہر سیاسی جماعت نے عوام کو سبز باغ دکھائے ،دینہ کی عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے جہلم کا رخ کرنا پڑتا ہے ،دینہ کی عوام دلیرانہ قیادت سے محروم ،تفصیلات کے مطابق دینہ کو تحصیل کا درجہ دِئیے عرصہ دراز گزر گیا لیکن اگر اس کو پیپرز کی حد تک تحصیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ،پنجاب کی واحد تحصیل ہے جس میں نہ ٹی ایچ کیو ہسپتال بن سکا ،نہ کچہری بن سکی اور نہ ہی اس کو سوئی گیس مل سکی ۔ہر سیاسی جماعت کے قائدین نے عوام کو سبز باغ دکھائے ۔اگر یوں کہا جائے کہ دینہ کی عوام کو صیح معنوں میں دلیرانہ سیاسی قیادت میسر نہ آ سکی تو غلط نہ ہو گا ۔دینہ۔شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے ایک پرائمری ہسپتال ناکافی ہے ۔پرائمری۔ہسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو جہلم ریفر کر دیا جاتا ہے جب کہ دوسری طرف کچہری نہ ہونے کی وجہ سے جوڈیشل معملات کے لیے عوام کو جہلم کچہری جانا پڑتا ہے جہاں مقدمات کی بھرمار کی وجہ سے سالوں سال فیصلے نہیں ہو پاتے اور عوام زلیل خوار ہوتے ہیں ۔دینہ شہر کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ سوئی گیس ہے ۔پورے پنجاب میں واحد تحصیل دینہ ہے جس کو سوئی گیس کی سہولت میسر نہ ہے ۔الیکشن کے دنوں میں جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں اور حکومت بننے کے بعد نمائیندے غائب ہو جاتے ہیں ۔تحصیل دینہ کی عوام نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ کی عوام کی محرمیوں کو دور کیا جائے اور الیکشن میں کیے وعدے پورے کیے جائیں ۔