گیس ایجنسی یونین دینہ کی ہنگامی پریس کانفرنس ،زائد قیمت پر خرید کر کم قیمت پر گیس فروخت نہیں کر سکتے،مشترکہ فیصلہ،انتظامیہ تعاون کرے
دینہ ( اقبال خان)گیس ایجنسی یونین دینہ کی ہنگامی پریس کانفرنس ،زائد قیمت پر خرید کر کم قیمت پر گیس فروخت نہیں کر سکتے،مشترکہ فیصلہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز انتظامیہ کی جانب سے گیس ایجنسی کو پلانٹ ریٹ خرید سے کم ریٹ پر گیس فروخت کرنے کا پابند کیا گیا جس پر گیس ایجنسی یونین دینہ کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت راجہ عامر ہوا جس میں تمام گیس ایجنسی نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ پلانٹ ریٹ خرید سے کم قیمت پر گیس فروخت کرنا ممکن نہیں ہے ۔گیس ایجنسی یونین دینہ نے اجلاس کے فوری بعد ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر یونین گیس ایجنسی راجہ عامر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 3050 روپے پلانٹ ریٹ ہے اس پر گڈز کے اخرجات ہیں جو ملا کر ریٹ 3200 روپے بنتا ہے اور انتظامیہ ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم جس ریٹ پر گیس خرید پڑ رہی ہے پر اسی پر ہی گیس فروخت کریں جو ایک ناممکن عمل ہے ۔ہماری دوکانوں کے اخراجات ہیں دوکانوں کے کرایے ادا کرتے ہیں بجلی کے بل ملازم کی تنخواہ ہم کہاں سے ادا کریں گے ۔ہمارے گھروں کے بھاری اخراجات ہیں قوت خرید پر گیس فروخت کرنا ہمارے خاندانوں کا معاشی قتل کرنے کے مترادف ہے۔ جب کہ گیس پلانٹس نے بھی انتظامیہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ ہم پلانٹس تو بند کر سکتے ہیں لیکن اپنی خرید سے کم پر نہیں سیل کر سکتے ۔صدر یونین گیس نے کہا جب ہمیں گیس مہنگے داموں مل رہی ہے تو ہم اسے سستے داموں کیسے فروخت یقینی بنائیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف کئی خاندان بیروزگار ہو جائیں گے بلکہ ایک معاشی بحران پیدا ہو جائے گا ۔گیس ہر گھر کی ضرورت ہے اور اس سرد موسم میں تو اس کی ضرورت میں اضافہ بڑھ جاتا ہے انتظامیہ کو تو ہمیں داد دینی چاہیے کہ اس بحرانی کیفیت میں بھی عوام تک گیس تسلسل سے پہنچ رہی ہے ۔جب کہ دوسرے شہروں میں دیکھا جائے تو گیس شارٹ ہونے کی وجہ سے ریٹ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔صدر گیس یونین راجہ عامر نے ڈپٹی کمشنر جہلم ،اسسٹنٹ کمشنر دینہ سے اپیل کی ہے کہ قوت خرید سے کم ریٹ پر گیس کی فروخت کرنا نا ممکن ہے ہم جائز منافع کے ساتھ کام کر رہے ہیں ہمیں کام کرنے دیا جائے ۔اس طرح ہم پر پریشر ڈالنے سے نہ صرف ہمارا کاروبار ختم ہو جائے گا اس کے ساتھ ساتھ کئی خاندان بیروزگاری کا شکار ہو جائیں گے جو اس کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ہمارا معاشی قتل ہونے سے بچایا جائے ۔ہمارے پاس قوت خرید سے کم ریٹ پر فروخت کرنے کا واحد راستہ کاروبار بند کرنے کے مترادف لگتا ہے ۔ہماری آپ سے اپیل ہے کہ ہمارا معاشی قتل ہونے سے ہمیں بچایا جائے اور درمیانہ راستہ نکالا جائے۔