حالیہ عالمی کشیدگیوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار صرف ایک اسٹریٹجک یا دفاعی طاقت تک محدود نہیں رہا،رب نواز گوندل صدر پریس کلب دینہ
امن کے قیام اور جنگی تنازعات کو کم کرنے میں بھی نمایاں ذمہ داری ادا کی ہے۔ رب نواز گوندل صدر پریس کلب دینہ
حالیہ عالمی کشیدگیوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار صرف ایک اسٹریٹجک یا دفاعی طاقت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے امن کے قیام اور جنگی تنازعات کو کم کرنے میں بھی نمایاں ذمہ داری ادا کی ہے۔ رب نواز گوندل صدر پریس کلب دینہ
دینہ (اقبال خان) صدر پریس کلب دینہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی عملی اقدامات کرتا ہے۔
جنگ رکوانے کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی متوازن اور محتاط سفارت کاری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات، ثالثی اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دی ہے۔ مختلف مواقع پر پاکستان نے متحارب ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر ایسے خطوں میں جہاں براہِ راست بات چیت ممکن نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی مسلسل آواز، جنگ بندی اور امن کے حق میں واضح مؤقف کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید برآں، افغانستان کی صورتحال میں پاکستان نے کئی بار مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں سہولت کاری کی۔ مختلف عالمی طاقتوں اور افغان فریقین کے درمیان بات چیت کے لیے ماحول سازگار بنانے میں پاکستان کا کردار اہم رہا، جس کا مقصد خطے میں طویل جنگ کا خاتمہ اور استحکام کا قیام تھا۔
اسی طرح ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا۔ پاکستان کی قیادت نے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی، تاکہ ایک ممکنہ بڑے تنازع کو روکا جا سکے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی پاکستان نے کئی مواقع پر تحمل اور امن کی خواہش کا مظاہرہ کیا ہے۔ جنگی حالات میں بھی پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش، کشیدگی کم کرنے کے اقدامات، اور بین الاقوامی برادری کو شامل کرنے کی حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ خطے کو جنگ سے بچانا چاہتا ہے۔
انسانی بنیادوں پر بھی پاکستان نے جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد، مہاجرین کی میزبانی، اور امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف انسانی ہمدردی کی مثال ہیں بلکہ جنگ کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
آخرکار یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا کردار صرف ایک فریق کا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی شراکت دار کا ہے، جو جنگ کو روکنے، کشیدگی کو کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔