دینہ شہر میں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس (NHMP) کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
بھاری گاڑیوں کو جرمانوں پر زور،شہر کی حدود میں اوور اسیڈ چیکنگ ختم
دینہ (اقبال خان) دینہ شہر میں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس (NHMP) کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بیٹ6 نارتھ 5 کے زیر انتظام جی ٹی روڈ کے شہری علاقوں میں اوور سپیڈنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے میں موٹر وے پولیس انتظامیہ مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
عوامی شکایات اور حالیہ رپورٹ کے مطابق صورتحال کچھ یوں ہے:
اوور سپیڈنگ کا راج اور حفاظتی اقدامات کا فقدان
دینہ شہر کی حدود میں گاڑیوں کی تیز رفتاری ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، لیکن موٹر وے پولیس کی جانب سے اسے کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے حساس مقامات پر جہاں حادثات کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے، وہاں تاحال کوئی **اسپیڈ کنٹرول کیمرہ** نصب نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے ڈرائیورز بے خوف ہو کر گاڑیوں کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔
گشت (Patrolling) کی کمی
شہر کے مکینوں کے مطابق بیٹ 6 نارتھ 5 کی پیٹرولنگ گاڑیاں دینہ شہر کے اندرونی حصوں اور مرکزی جی ٹی روڈ کے شہری علاقے میں نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہیں۔ گشت نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا نظم و ضبط بگڑ چکا ہے اور حادثات کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
*شہر سے باہر جرمانوں پر توجہ
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ موٹر وے پولیس کی توجہ شہر کی حدود میں ٹریفک کی روانی اور سلامتی برقرار رکھنے کے بجائے شہر سے باہر ویران علاقوں میں **بھاری جرمانوں** پر مرکوز ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ اہلکار شہر کے اندر خطرناک ڈرائیونگ کو نظر انداز کر کے صرف چالان کے اہداف (Targets) پورے کرنے کے لیے شہر سے دور ناکے لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
عوام کا مطالبہ
اہلیانِ دینہ نے ڈی آئی جی موٹر وے پولیس اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:
دینہ شہر کی حدود میں اسپیڈ کیمرے فوری نصب کیے جائیں۔
بیٹ 6 نارتھ 5 کو پابند کیا جائے کہ وہ شہر کے اندر پیٹرولنگکو یقینی بنائیں۔
پولیس کی ترجیح صرف ‘چالان’ کے بجائے ‘انسانی جانوں کا تحفظ’ ہونا چاہیے۔
انتظامیہ کی اس خاموشی اور غفلت کے نتیجے میں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ بیٹ کے افسران پر عائد ہوگی۔