دینہ مین چوک سے سایہ دار چھتری ہٹا دی گئی، شہریوں میں تشویش، ٹریفک پولیس اور بلدیہ کے درمیان اختلافات کی بازگشت
دینہ (اقبال خان) دینہ کے مرکزی چوک میں نصب سایہ دار چھتری ہٹائے جانے کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک بلدیہ ملازم کے موٹر سائیکل کا ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان کیا گیا، جس کے بعد مبینہ طور پر مین چوک میں نصب چھتری کو ہٹا دیا گیا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ چھتری نہ صرف ٹریفک پولیس اہلکاروں کے لیے سایہ فراہم کرتی تھی بلکہ شدید گرمی کے دوران مسافر، بزرگ شہری، خواتین، بچے اور راہگیر بھی اس کے نیچے کھڑے ہو کر دھوپ سے بچاؤ حاصل کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق مین چوک میں پہلے بھی ایک چھتری موجود تھی جسے ہٹا کر موجودہ چھتری نصب کی گئی تھی، تاہم اب اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ شہریوں نے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی سہولت کو ذاتی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ علاقہ مکینوں اور تاجر برادری نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے اور مین چوک میں سایہ دار چھتری یا متبادل انتظامات فوری طور پر بحال کیے جائیں تاکہ شہریوں کو گرمی کی شدت سے بچایا جا سکے۔جب کہ جب سی او دینہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ چھتری پارک میں لگانے کے لیے ہٹائی گئی ہے یہاں بڑی جھتری لگائیں گے لیکن یہاں ایک سوال ہے کہ آخر اتنی سخت دھوپ میں اتنی کیا جلدی تھی کہ نئی چھتری کی آمد سے قبل راتوں رات یہ چھتری اتار لی گئی عوامی حلقوں نے ڈی پی او جہلم۔سے اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے