جہلم(راجہ نوبہار): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور محکمہ صحت کی جانب سے متعارف کرائے گئے لیڈی ہیلتھ انسپکٹر پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں خواتین دور دراز علاقوں میں جا کر فیلڈ ڈیوٹیاں انجام دے رہی ہیں اور اہم ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں، تاہم 12 اگست گزرنے کے باوجود لیڈی ہیلتھ انسپکٹرز کو جولائی کی تنخواہ تاحال موصول نہیں ہوئی۔
لیڈی ہیلتھ انسپکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ شدید مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی کے لیے انہیں اپنی جیب سے بسوں اور دیگر ذرائع آمدورفت کے کرائے برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ تنخواہ میں تاخیر کے باعث ان کے لیے مزید مالی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب ہیلتھ سیکرٹری پنجاب کی جانب سے صوبے میں جاری فیلڈ ورک کو مؤثر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ محکمہ صحت کا کام بہترین انداز میں جاری ہے اور فیلڈ سے درست ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنے والی خواتین کا سوال ہے کہ جب وہ دن رات محنت کرکے حکومت کے لیے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں تو ان کی تنخواہ بروقت ادا کیوں نہیں کی جا رہی؟
لیڈی ہیلتھ انسپکٹرز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، ہیلتھ سیکرٹری پنجاب اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جولائی کی زیرِ التوا تنخواہ فوری طور پر جاری کی جائے اور فیلڈ ڈیوٹی کے دوران آنے والے سفری اخراجات کے حوالے سے بھی مناسب اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محنت کرنے والے فیلڈ اسٹاف کو بروقت معاوضہ ملنا ان کا بنیادی حق ہے۔