بہت سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اخبار میں لپیٹتے ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر سموسے اور پکوڑے بھی اکثر اخبار پر ہی رکھ کر دیے جاتے ہیں۔ بعض دکاندار سموسوں اور دیگر تلی ہوئی اشیا کو اخبار یا کاغذ کی ردی میں لپیٹ کر بھی آپ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔
پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں سموسے، پکوڑے اور اسی طرح کی دیگر تلی ہوئی اشیا پارسل کرنے کے لیے اخبار کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اخبار میں لپٹے یہ سموسے اور پکوڑے بعد میں پلاسٹک کے تھیلوں میں ڈال کر آپ کو تھما دیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی نے گلی محلوں اور بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے ہوٹلوں اور ٹھیلوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
سموسوں اور پکوڑوں جیسی کھانے کی اشیا کو اخبار یا کسی دوسرے ایسے کاغذ میں لپیٹنا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جس پر کُچھ پرنٹ ہوا ہو۔
اتھارٹی کے مطابق کاغذ پر چھپائی کے لیے استعمال ہونے والی سیاہی میں کیمیکلز کے علاوہ سیسے جیسی مضر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں۔