دینہ انتظامیہ 75 سال گزرنے کے باوجود شہر میں پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام، منگلا روڈ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی پارکنگ میں تبدیل
دینہ۔( اقبال خان)دینہ انتظامیہ 75 سال گزرنے کے باوجود شہر میں پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام، منگلا روڈ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی پارکنگ میں تبدیل
**منگلا روڈ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم، ایمبولینس اور گرین بسوں کی آمدورفت بھی متاثر، پلازوں کی پارکنگ فیس شہریوں کے لیے اضافی پریشانی بن گئی**
**دینہ:** شہر میں پارکنگ کا دیرینہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ 75 سال گزرنے کے باوجود دینہ انتظامیہ شہر میں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مناسب پارکنگ کا مستقل انتظام کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ خصوصاً منگلا روڈ پر موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی بھرمار نے ٹریفک کی روانی شدید متاثر کر رکھی ہے، جس کے باعث شہریوں، دکانداروں اور مسافروں کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق منگلا روڈ پر سڑک کے اطراف اور مختلف مقامات پر موٹر سائیکلیں اور رکشے کھڑے ہونے کے باعث سڑک کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافے کے باعث اکثر اوقات ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اضافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹریفک کی اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات ایمبولینس گاڑیوں کو بھی راستہ بنانے میں شدید دشواری پیش آتی ہے، جبکہ گرین بسوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کسی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس ٹریفک جام میں پھنس جائے تو مریض کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب شہر کے پلازوں میں قائم پارکنگ کی فیس بھی شہریوں کے لیے ایک اضافی مسئلہ بن چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پارکنگ فیس ادا کرنے کے باعث بہت سے لوگ پلازوں کی پارکنگ استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں کے کنارے کھڑی کر دیتے ہیں، جس سے ٹریفک کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر دینہ شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی، کاروباری سرگرمیوں اور ٹریفک کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے آج تک باقاعدہ موٹر سائیکل اور رکشہ پارکنگ کا مؤثر نظام کیوں قائم نہیں کیا جا سکا؟ کیا شہریوں کو اسی طرح روزانہ ٹریفک جام اور بے ہنگم پارکنگ کا سامنا کرنا پڑے گا؟
شہریوں، تاجروں اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، اسسٹنٹ کمشنر دینہ اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منگلا روڈ سمیت شہر کے اہم تجارتی مراکز میں فوری طور پر پارکنگ کے لیے مخصوص مقامات مختص کیے جائیں، غیر قانونی پارکنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور ایمبولینس و گرین بسوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان مرتب کیا جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دینہ کو خوبصورت اور مثالی شہر بنانے کے دعوے اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جب شہریوں کو بنیادی سہولیات کے ساتھ ایک منظم ٹریفک اور پارکنگ نظام بھی فراہم کیا جائے۔