پیکا ایکٹ قانون کے خلاف ملک بھر کی طرح تحصیل دینہ کی تمام صحافی برادری سراپا احتجاج ،سابق وفاقی وزیر حاجی شہباز کی بھی احتجاج میں خصوصی شرکت

دینہ ( تحصیل رپورٹر )پیکا ایکٹ قانون کے خلاف ملک بھر کی طرح تحصیل دینہ کی تمام صحافی برادری سراپا احتجاج ،سابق وفاقی وزیر حاجی شہباز کی بھی احتجاج میں خصوصی شرکت ، سول سوسائٹی مذہبی مکتبہ فکر سمیت تاجر برادری کی شرکت ۔پیکا ایکٹ قانون کے خلاف تحصیل دینہ میں صحافی برادری نے بھرپور احتجاج کیا،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر کی طرح تحصیل دینہ کی صحافی برادری نے احتجاج کیا ،بازوں پر کالی پٹی باندھ کے منگلا روڈ تا مین چوک واک کی حکومت کے اس قانون کی پرزور مزمت کی واشگاف نعرے لگائے گئے ،پیکا ایکٹ نامنظور۔سینئر صحافی جرار حسین میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے جس کو صحافی برادری کے خلاف استعمال کرنے کے لیے حکومت نے بنایا انہوں نے اس قانون کی بھرپور مخالفت کی اور پرزور مزمت کی ۔ سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ پیکا ایکٹ قانون صحافیوں کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے ۔پیکا ایکٹ حکومت اپنی نا اہلی کو چھپانا چاہتی ہے ۔میڈیا کی آواز کو دبانے والی حکومت کا جلد خاتمہ ہونے والا ہے ۔صدر الیکٹرانک میڈیا دینہ رب نواز گوندل نے اس موقعہ پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے جو صحافی برادری و صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر پاس کیا گیا جو کہ صحافی برادری کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔چئیرمین الیکڑانک میڈیا ماجد آفریدی نے اس موقعہ پر خطاب میں کہا کہ پیکا ایکٹ آزادی اظہار رائے پر ایک قدغن ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی تو اسی بل کی مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مخالفت کی تھی اور آج ویی دونوں پارٹیاں صحافیوں کے خلاف قانون بنا ریی ہیں ۔صدر دینہ پریس کلب سید توقیر آصف شاہ نے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے حکومت صحافیوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس کالے قانون ہیکا ایکٹ کو واپس لے ۔سوہاوہ سے سینئر صحافی راجہ فیصل کیانی نے احتجاج میں خصوصی شرکت کی اور اس کالے قانون کی پرزور مزمت کی ۔دینہ کے سینئر صحافی رضوان سیٹھی نے پیکا ایکٹ کی پرزور مزمت کی اور کہا پیکا قانون ٹھس ٹھس ہو گا اور یہ انشاءاللہ جلد واپس ہو گا وگرنہ احتجاج کا دائری پورے ملک میں پھیلے گا ۔