
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار ) تمام شہری سفر کرتے وقت اپنی حفاظت کی خاطر دوسروں کے ساتھ نیکی کرنے کے متعلق نہ سوچیں ان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ان دنوں میں پیشہ ور گداگر مختلف روپ میں وہ لوگوں کو لوٹ رہے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنی حفاظت کی خاطر جب اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر رہا ہوتا ہے تو نیکی کے جذبے کے تحت نیکی نہ ہی کرے تو بہتر ہے کیونکہ نیکی کم ہوگی اور سزا زیادہ ہوگی یہ جو تصویر دکھائی جا رہی ہے اس شکل میں سینکڑوں افراد تحصیل دینہ میں ا چکے ہیں گلی محلوں میں اور جو ہماری سڑکیں ہیں جی ٹی روڈ پر یہ واردات کرتے ہیں مورخہ 30/07 نور محلے کا ایک نوجوان جو منگلا سے واپس ا رہا تھا سروس روڈ پر خانہ بوکی کے قریب یہ جو تصویر دکھائی جا رہی ہے اس نے اس نوجوان کو روکا اور متعلقہ شہری نے گاڑی کو نہ روکا اور وہ اچانک گاڑی کے سامنے اگیا مجبورا اس کو گاڑی روکنا پڑی اور جب گاڑی رکی تو بڑی پھرتی کے ساتھ اس نے اس شہری کو لوٹ لیا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری انتظامیہ مختلف کاموں میں مصروف ہیں ان کو فرصت نہیں ملتی کہ اس قسم کے لوگوں کو وہ اپنی گرفت میں لے لہذا شہریوں کو اپنی حفاظت خود ہی کرنا ہوگی شہریوں کو چاہیے کہ جب ایسے لوگ گلی محلوں میں اتے ہیں تو ان کو بھیک نہ دیں بلکہ سختی سے اپنا دروازہ بند کریں اور ان کو بھگا دیں جتنی بھی وارداتیں ہو رہی ہیں جتنی بھی چوری چکاری ہو رہی ہے جتنی بھی ڈکیتی ہو رہی ہے یہی لوگ کر رہے ہیں اور خاص طور پر یہ لوگ بس سٹاپ پر بھیک مانگنے کی شکل یا کسی اور روپ میں کھڑے ہوتے ہیں اور شہریوں کو اپنے مخصوص طریقے سے لوٹتے ہیں اگر ہو سکے تو انتظامیہ ان کے خلاف ایک منظم طریقے سے کاروائی کریں تاکہ شہری محفوظ رہ سکیں