پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد، روزمرہ استعمال کی اشیاء میں نمایاں مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا ہے
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی
دینہ(اقبال خان)حکومتِ پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق، اس اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ پٹرولیم مصنوعات دیگر اشیاء کی ترسیل اور پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو روزمرہ کی اشیاء مثلاً خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، اور اس نئے اضافے سے ان کی خریداری کی طاقت پر مزید دباؤ پڑے گا۔
اس حوالے سے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پٹرول اضافے کو واپس لیں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں، تاکہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی کاروباری حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاکہ معیشت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد، روزمرہ استعمال کی اشیاء میں نمایاں مہنگائی کا خدشہ ہے۔ مثلاً آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ، اور گوشت جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ ٹرانسپورٹ اور پبلک سروسز کے کرائے بھی بڑھیں گے، جس سے عام شہریوں کا بجٹ مزید دباؤ میں آ جائے گا۔ اس صورتحال نے عوامی حلقوں میں تشویش بڑھا دی ہے، اور حکومت سے فوری ریلیف کے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے