پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کی من مانی: بند اسکول، مگر پوری فیس اور ٹرانسپورٹ چارجز کی وصولی

0

دینہ (بیورو چیف)پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کی من مانی: بند اسکول، مگر پوری فیس اور ٹرانسپورٹ چارجز کی وصولی

تحریر: خصوصی رپورٹ

پنجاب میں مارچ 2026 کے دوران سرکاری احکامات کے تحت تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عارضی بندش نے ایک بار پھر صوبے کے نجی تعلیمی نظام میں موجود بے ضابطگیوں، مالی استحصال اور انتظامی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
یہ بندش 10 مارچ 2026 سے 31 مارچ 2026 تک نافذ رہی، جس کا اعلان 09 مارچ 2026 کو اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے ذریعے کیا گیا۔ حکومت نے یہ فیصلہ ایندھن و توانائی کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال میں عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔

لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سرکاری اقدام کا مالی بوجھ بھی آخرکار عام والدین ہی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔

بچے گھروں میں، مگر فیس مکمل؟

تعلیمی ادارے بند رہے، طلبہ گھروں میں رہے، باقاعدہ تدریسی سرگرمیاں مؤثر انداز میں شروع نہ ہو سکیں، اور متعدد اداروں میں آن لائن کلاسز بھی نہیں ہوئیں۔ اس کے باوجود، پنجاب کے بیشتر نجی اسکولز اور کالجز نے مارچ 2026 کی مکمل ٹیوشن فیس طلب کرنا شروع کر دی۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن اور ناانصافی پر مبنی رویہ ٹرانسپورٹ / پک اینڈ ڈراپ سروس کے حوالے سے سامنے آیا، جہاں کئی اسکولوں اور ان سے منسلک ٹرانسپورٹرز نے پورے ماہ کے ٹرانسپورٹ چارجز وصول کرنے کا مطالبہ کر دیا، حالانکہ اس عرصے میں گاڑیاں چلی ہی نہیں اور سروس دی ہی نہیں گئی۔

یہ سوال ہر والدین کے ذہن میں بجا طور پر پیدا ہو رہا ہے:

جب نہ کلاس لگی، نہ بچہ اسکول گیا، نہ وین چلی — تو مکمل فیس اور مکمل ٹرانسپورٹ چارجز کس بات کے؟

حکومتی بندش، مگر مالی سزا والدین کو؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کسی طالبعلم، والدین یا نجی مسئلے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک حکومتی ہدایت تھی، جس کا مقصد پٹرول و ڈیزل کے استعمال میں کمی اور عوامی سطح پر توانائی بچاؤ تھا۔

اگر حکومت بندش کرے، طلبہ گھروں میں رہیں، سروسز بند رہیں، مگر اس کے باوجود والدین سے ہر طرح کی مکمل وصولی کی جائے، تو اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومتی فیصلوں کا عملی بوجھ ہمیشہ عوام ہی برداشت کریں گے، جبکہ نجی ادارے ہر صورت اپنی آمدن محفوظ رکھیں گے۔

یہ محض ایک مالی تنازعہ نہیں، بلکہ انصاف، شفافیت، قانونی ذمہ داری اور عوامی اعتماد کا مسئلہ ہے۔

والدین پر دباؤ اور نفسیاتی بلیک میلنگ

متعدد والدین کی شکایات کے مطابق، نجی تعلیمی ادارے صرف فیس طلب کرنے تک محدود نہیں، بلکہ بعض جگہوں پر لیٹ فیس جرمانے، اگلی کلاس میں پروموشن روکنے، رزلٹ روکنے، داخلہ متاثر ہونے جیسی دھمکیوں کے ذریعے والدین کو ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس قسم کا رویہ تعلیمی ماحول سے زیادہ کاروباری جبر کی علامت محسوس ہوتا ہے۔

تعلیم کے نام پر کام کرنے والے اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سماجی حساسیت، ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کریں گے، نہ کہ ایسی پالیسی اپنائیں گے جس میں سروس نہ ہو مگر وصولی پوری ہو۔ایک اور سنگین مسئلہ: اسکولوں کے اندر کتابوں اور یونیفارم کی فروخت

یہ مسئلہ صرف ماہانہ فیس تک محدود نہیں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں، خصوصاً دینہ، ضلع جہلم میں والدین کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بعض نجی تعلیمی ادارے اسکول یونیفارم، کتابیں، کاپیاں، اسٹیشنری اور دیگر سامان اسکول کے اندر یا اسکول انتظامیہ سے منسلک مخصوص ذرائع کے ذریعے فروخت کر رہے ہیں۔

یہ عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں اور ان اصولوں کے بھی خلاف ہے جن کا مقصد والدین کو تعلیمی کاروباری استحصال سے بچانا ہے۔

والدین کو جب اوپن مارکیٹ سے خریداری کے حق سے محروم کر کے مخصوص دکانوں یا اسکول سے منسلک سپلائرز سے خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تو اس سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور والدین کے لیے متبادل راستے بھی بند ہو جاتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ تعلیمی ادارے تعلیم کے مراکز کے بجائے منافع بخش تجارتی مراکز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

جب تعلیم خدمت کے بجائے منافع کا ذریعہ بن جائے

نجی تعلیمی شعبہ کسی بھی معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن جب اسکول بند ہونے کے باوجود مکمل فیس لی جائے، ٹرانسپورٹ نہ چلنے کے باوجود چارجز وصول کیے جائیں، اور اس کے ساتھ ساتھ کتابوں اور یونیفارم کی جبری خریداری بھی مسلط کی جائے، تو یہ سب کچھ خدمتِ تعلیم کے بجائے منظم مالی استحصال محسوس ہوتا ہے۔

پنجاب کے متوسط اور کم آمدن والے خاندان پہلے ہی مہنگائی، یوٹیلیٹی بلز، پٹرول کی قیمتوں، اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں کی یہ پالیسی عام گھروں کے بجٹ کو شدید متاثر کر رہی ہے۔حکومتِ پنجاب کے لیے لمحۂ فکریہ یہ معاملہ اب محض والدین اور اسکول انتظامیہ کے درمیان ایک محدود شکایت نہیں رہا، بلکہ یہ پورے صوبے کا ایک عوامی، قانونی اور انتظامی مسئلہ بن چکا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، اور ضلعی تعلیمی حکام فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور واضح، قابلِ نفاذ اور یکساں پالیسی جاری کریں تاکہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو من مانی کا موقع نہ مل سکے۔حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرے: • مارچ 2026 کی بندش کے عرصے کے لیے فیس وصولی پر واضح پابندی عائد کی جائے؛• اگر کسی ادارے نے فیس یا اضافی چارجز وصول کیے ہیں تو انہیں واپس یا آئندہ بلوں میں ایڈجسٹ کیا جائے؛
• جن دنوں میں ٹرانسپورٹ سروس فراہم نہیں کی گئی، ان دنوں کے ٹرانسپورٹ چارجز مکمل طور پر ختم کیے جائیں؛• والدین کو دھمکانے، ہراساں کرنے یا زبردستی ادائیگی کروانے والے اداروں کے خلاف انتظامی و قانونی کارروائی کی جائے؛
• اسکولوں کے اندر کتابوں، یونیفارم اور اسٹیشنری کی جبری فروخت کے خلاف خصوصی مہم اور کریک ڈاؤن شروع کیا جائے۔
تعلیم حق ہے، منافع کا غیر محدود ذریعہ نہیں تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔
اسے کاروبار میں بدل دینا، اور پھر اس کاروبار کو اس حد تک بڑھا دینا کہ سروس کے بغیر بھی مکمل وصولی کی جائے، نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔والدین تعلیم کے مخالف نہیں۔وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف، قانون اور دیانتداری کے ساتھ معاملہ کیا جائے۔اگر تعلیمی ادارے اسی طرح خود کو قانون سے بالاتر کاروباری ادارے سمجھتے رہے، تو اس کے نتائج صرف والدین تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورا تعلیمی نظام عوام کے اعتماد سے محروم ہوتا جائے گا۔کیونکہ حقیقت بالکل واضح ہے:جب بچہ گھر میں ہو، کلاس روم بند ہو، وین نہ چلے، اور مناسب تدریس بھی نہ ہو — تو مکمل فیس وصول کرنا تعلیم نہیں، بلکہ استحصال ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.