دینہ ( نثار مغل سے) دینہ کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا مگر بنیادی سہولیات سے محروم نہ سوئی گیس نہ اوورہیڈ برج اور نہ ہی تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال نہ ہی ڈی ایس پی پولیس اور نہ ہی عدلیہ۔ سول جج۔الیکشن کے دنوں میں تمام سیاسی امیدوار جھوٹے وعدے اور جھوٹی تسلیاں دے کر عوام کو ان دنوں خوش کر دیتے ہیں مگر اقتدار میں اتے ہی تمام وعدے بھول جاتے ہیں اسی طرح دنیہ کی عوام کو ہر سیاسی پارٹی نے کہا کہ ہم برسر اقتدار ا کر سب سے پہلے دینہ کو سوئی گیس فراہم کریں گے مگر متعدد بار تو گیس سلنڈر مین سڑک پر رکھ کر پائپوں میں گیس کا چکمہ بھی دے دیا گیا تھا مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود دینہ سوئی گیس سے محروم ہے اور اسی طرح دینہ میں ائے روز مین چوک دینہ میں بے شمار اموات ہو چکی ہیں اور ٹریفک حادثات کی وجہ سے بے شمار لوگ زخمی ہو چکے ہیں اور قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں مگر اوورہیڈ برج نہ ہونے کی وجہ سے ان قیمتی جانوں اور جو لوگ زخمی ہوتے ہیں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور اسی طرح اگر کوئی رورل ہیلتھ سینٹر دینا میں چلا جائے تو بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے کیونکہ رورل ہیلتھ سینٹر کو تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دینے کے لیے متعدد بار سیاسی اقاؤں نے عوام سے وعدے کیے مگر بے سود اسی طرح تحصیل دینہ میں ڈی ایس پی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو جہلم کچہری کا رخ کرنا پڑتا ہے جبکہ دینہ میں بے شمار فیملی کیس جائیداد کے مقدمات اور دیگر مقدمات کی بھر مارہے لیکن سول جج اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دینہ سے جہلم کا رخ کرنا پڑتا ہے اور کچہری میں چھوٹے چھوٹے کام کے لیے ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے عوامی سماجی حلقوں نے متعدد بار سیاسی اقاؤں اور اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا کہ دینہ کے عوام رل گئے ہیں مگر کوئی نہ تو سیاسی ان لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اسی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی عوام کو بنیادی سہولیات دینے سے محروم ہے عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف وفاقی وزیر بجلی و گیس وفاقی وزیر قانون وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف مقامی ایم این اے اور ایم پی اے ۔ وزیر بلدیات کمشنر راولپنڈی ڈویژن راولپنڈی ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ میں فوری طور پر سوئی گیس اوورہیڈ برج رورل ہیلتھ سینٹر دینہ کو تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ اور اسی طرح دینا میں تحصیل کی سطح پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور سول جج جج فیملی کورٹ جبکہ محکمہ پولیس کی جانب سے ڈی ایس پی کی تعنیاتی دینہ میں کی جائے تا کہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں